আল জামিউল কাবীর- ইমাম তিরমিযী রহঃ (উর্দু)

قرآن کی تفسیر کا بیان

হাদীস নং: ৩৩১২
قرآن کی تفسیر کا بیان
سورت منافقون کی تفسیر
زید بن ارقم (رض) کہتے ہیں کہ میں اپنے چچا کے ساتھ تھا، میں نے عبداللہ بن ابی ابن سلول کو اپنے ساتھیوں سے کہتے ہوئے سنا کہ ان لوگوں پر خرچ نہ کرو، جو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ہیں، یہاں تک کہ وہ تتربتر ہوجائیں، اگر ہم اب لوٹ کر مدینہ جائیں گے تو عزت والا وہاں سے ذلت والے کو نکال دے گا، میں نے یہ بات اپنے چچا کو بتائی تو میرے چچا نے نبی اکرم ﷺ سے اس کا ذکر کردیا، آپ نے مجھے بلا کر پوچھا تو میں نے آپ کو (بھی) بتادیا، آپ ﷺ نے عبداللہ بن ابی اور اس کے ساتھیوں کو بلا کر پوچھا، تو انہوں نے قسم کھالی کہ ہم نے نہیں کہی ہے، رسول اللہ ﷺ نے مجھے جھوٹا اور اسے سچا تسلیم کرلیا، اس کا مجھے اتنا رنج و ملال ہوا کہ اس جیسا صدمہ، اور رنج و ملال مجھے کبھی نہ ہوا تھا، میں (مارے شرم و ندامت اور صدمہ کے) اپنے گھر میں ہی بیٹھ رہا، میرے چچا نے کہا : تو نے یہی چاہا تھا کہ رسول اللہ ﷺ تمہیں جھٹلا دیں اور تجھ پر خفا ہوں ؟ اس پر اللہ تعالیٰ نے «إذا جاءک المنافقون» والی سورت نازل فرمائی، تو آپ نے مجھے بلا بھیجا (جب میں آیا تو) آپ نے یہ سورة پڑھ کر سنائی، پھر فرمایا : اللہ نے تجھے سچا قرار دے دیا ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/تفسیر المنافقین ١ (٤٩٠٠) ، و ٢ (٤٩٠١) ، و ٣ (٤٩٠٣) ، و ٤ (٤٩٠٤) ، صحیح مسلم/المنافقین ح ١ (٢٧٧٢) (تحفة الأشراف : ٣٦٧٨) (صحیح) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3312
حدیث نمبر: 3312 حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ:‏‏‏‏ كُنْتُ مَعَ عَمِّي، ‏‏‏‏‏‏فَسَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أُبَيٍّ ابْنَ سَلُولَ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ لِأَصْحَابِهِ:‏‏‏‏ لَا تُنْفِقُوا عَلَى مَنْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ حَتَّى يَنْفَضُّوا، ‏‏‏‏‏‏و لَئِنْ رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ لَيُخْرِجَنَّ الأَعَزُّ مِنْهَا الأَذَلَّ سورة المنافقون آية 8، ‏‏‏‏‏‏فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعَمِّي، ‏‏‏‏‏‏فَذَكَرَ ذَلِكَ عَمِّي للنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَدَعَانِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَدَّثْتُهُ، ‏‏‏‏‏‏فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَيٍّ وَأَصْحَابِهِ فَحَلَفُوا مَا قَالُوا، ‏‏‏‏‏‏فَكَذَّبَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَدَّقَهُ فَأَصَابَنِي شَيْءٌ لَمْ يُصِبْنِي قَطُّ مِثْلُهُ، ‏‏‏‏‏‏فَجَلَسْتُ فِي الْبَيْتِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ عَمِّي:‏‏‏‏ مَا أَرَدْتَ إِلَّا أَنْ كَذَّبَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَقَتَكَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى:‏‏‏‏ إِذَا جَاءَكَ الْمُنَافِقُونَ سورة المنافقون آية 1 فَبَعَثَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَرَأَهَا ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ إِنَّ اللَّهَ قَدْ صَدَّقَكَ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
tahqiqতাহকীক:তাহকীক চলমান
জামে' তিরমিযী (উর্দু) - হাদীস নং ৩৩১২ | মুসলিম বাংলা