আল জামিউল কাবীর- ইমাম তিরমিযী রহঃ (উর্দু)
قرآن کی تفسیر کا بیان
হাদীস নং: ৩২৯৪
قرآن کی تفسیر کا بیان
سورت واقعہ کی تفسیر
ابو سعید خدری (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے آیت کریمہ : «وفرش مرفوعة» جنتیوں کے اونچے اونچے بچھونے ہوں گے (الواقعہ : ٣٤) ، کے سلسلے میں فرمایا : ان بچھونوں کی اونچائی اتنی ہے جنتا آسمان و زمین کے درمیان کا فاصلہ ہے اور ان کے درمیان چلنے کی مسافت پانچ سو سال کی ہے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف رشدین کی روایت سے جانتے ہیں، ٢- بعض اہل علم کہتے ہیں : اس حدیث میں «ارتفاعها كما بين السماء والأرض» کا مفہوم یہ ہے کہ بچھونوں کی اونچائی درجات کی بلندی کے مطابق ہوگی اور ہر دو درجے کے درمیان کا فاصلہ اتنا ہوگا جتنا آسمان و زمین کے درمیان کا فاصلہ ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم ٢٥٤٠ (ضعیف) قال الشيخ الألباني : ضعيف، التعليق الرغيب (4 / 262) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3294
حدیث نمبر: 3294 حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ دَرَّاجٍ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَوْلِهِ: وَفُرُشٍ مَرْفُوعَةٍ سورة الواقعة آية 34، قَالَ: ارْتِفَاعُهَا كَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، وَمَسِيرَةُ مَا بَيْنَهُمَا خَمْسُ مِائَةِ عَامٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ رِشْدِينَ، وَقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مَعْنَى هَذَا الْحَدِيثِ: وَارْتِفَاعُهَا كَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، قَالَ: ارْتِفَاعُ الْفُرُشِ الْمَرْفُوعَةِ فِي الدَّرَجَاتِ وَالدَّرَجَاتُ مَا بَيْنَ كُلِّ دَرَجَتَيْنِ كَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ.