আল জামিউল কাবীর- ইমাম তিরমিযী রহঃ (উর্দু)
قرآن کی تفسیر کا بیان
হাদীস নং: ৩২১৬
قرآن کی تفسیر کا بیان
سورہ احزاب کی تفسیر
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی وفات سے پہلے آپ کے لیے سب عورتیں حلال ہوچکی تھیں ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/النکاح ٢ (٣٢٠٦، ٣٢٠٧) (تحفة الأشراف : ٧٣٧٩) ، وسنن الدارمی/النکاح ٤٤ (٢٢٨٧) (صحیح الإسناد) وضاحت : ١ ؎ : یعنی پچھلی حدیث میں مذکور حرام کردہ عورتیں بعد میں نبی اکرم ﷺ کے لیے حلال کردی گئیں تھیں ، یہ استنباط عائشہ (رض) یا دیگر نے اس ارشاد باری سے کیا ہے ، «ترجي من تشاء منهن وتؤوي إليك من تشاء» (اے ہمارے حبیب و خلیل نبی ! ) تمہیں یہ بھی اختیار ہے کہ تم ان عورتوں میں سے جس کو چاہو پیچھے رہنے دو ( اس سے شادی نہ کرو یا موجود بیویوں میں سے جس کی چاہو باری ٹال دو ) اور جس کو چاہو اپنے پاس جگہ دو ، ( گو اس کو باری نہ بھی ہو ) ( الأحزاب : 51 ) ۔ قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3216
حدیث نمبر: 3216 حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ: مَا مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أُحِلَّ لَهُ النِّسَاءُ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.