আল জামিউল কাবীর- ইমাম তিরমিযী রহঃ (উর্দু)
قرآن کی تفسیر کا بیان
হাদীস নং: ৩১২০
قرآن کی تفسیر کا بیان
سورہ ابراہیم کی تفسیر
براء بن عازب (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے آیت «يثبت اللہ الذين آمنوا بالقول الثابت في الحياة الدنيا وفي الآخرة» اللہ ان لوگوں کو جو ایمان لائے ہیں، قول ثابت (محکم بات) کے ذریعہ دنیا و آخرت دونوں میں ثابت قدم رکھتا ہے (ابراہیم : ٢٧ ) ، کی تفسیر میں فرمایا : ثابت رکھنے سے مراد قبر میں اس وقت ثابت رکھنا ہے جب قبر میں پوچھا جائے گا : «من ربك ؟» تمہارا رب، معبود کون ہے ؟ «وما دينك ؟» تمہارا دین کیا ہے ؟ «ومن نبيك ؟» تمہارا نبی کون ہے ؟ ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الجنائز ٨٦ (١٣٦٩) ، وتفسیر سورة ابراہیم ٢ (٤٦٩٩) ، صحیح مسلم/الجنة ١٧ (٢٨٧١) ، سنن ابی داود/ السنة ٢٧ (٤٧٥٠) ، سنن النسائی/الجنائز ١١٤ (٢٠٥٩) ، سنن ابن ماجہ/الزہد ٣٢ (٤٢٦٩) (تحفة الأشراف : ١٧٦٢) (وانظر أیضا ماعند د برقم ٣٢١٢، و ٤٨٥٣) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ مومن بندہ کہے گا : میرا رب (معبود) اللہ ہے ، میرا دین اسلام ہے اور میرے نبی محمد ﷺ ہیں۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3120
حدیث نمبر: 3120 حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي عَلْقَمَةُ بْنُ مَرْثَدٍ، قَال: سَمِعْتُ سَعْدَ بْنَ عُبَيْدَةَيُحَدِّثُ، عَنِ الْبَرَاءِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الآخِرَةِ سورة إبراهيم آية 27 قَالَ: فِي الْقَبْرِ إِذَا قِيلَ لَهُ مَنْ رَبُّكَ وَمَا دِينُكَ وَمَنْ نَبِيُّكَ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.