আল জামিউল কাবীর- ইমাম তিরমিযী রহঃ (উর্দু)
قرآن کی تفسیر کا بیان
হাদীস নং: ৩০১৫
قرآن کی تفسیر کا بیان
سورت نساء کی تفسیر کے بارے میں
محمد بن منکدر کہتے ہیں کہ میں نے جابر بن عبداللہ (رض) کو کہتے ہوئے سنا : میں بیمار ہوا تو رسول اللہ ﷺ میری عیادت کو تشریف لائے اس وقت مجھ پر بےہوشی طاری تھی، پھر جب مجھے افاقہ ہوا تو میں نے عرض کیا : میں اپنے مال میں کس طرح تقسیم کروں ؟ آپ یہ سن کر خاموش رہے، مجھے کوئی جواب نہیں دیا، پھر یہ آیات «يوصيكم اللہ في أولادکم للذکر مثل حظ الأنثيين» نازل ہوئیں ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اسے کئی اور لوگوں نے بھی محمد بن منکدر سے روایت کیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم ٢٠٩٧ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : اللہ تعالیٰ تمہیں تمہاری اولاد کے بارے میں حکم کرتا ہے کہ ایک لڑکے کا حصہ دو لڑکیوں کے برابر ہے (النساء : ١١ ) ۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، صحيح أبي داود (2728) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3015
حدیث نمبر: 3015 حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، قَال: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: مَرِضْتُ فَأَتَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُنِي وَقَدْ أُغْمِيَ عَلَيَّ، فَلَمَّا أَفَقْتُ قُلْتُ: كَيْفَ أَقْضِي فِي مَالِي ؟ فَسَكَتَ عَنِّي حَتَّى نَزَلَتْ يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الأُنْثَيَيْنِ سورة النساء آية 11 ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ.