আল জামিউল কাবীর- ইমাম তিরমিযী রহঃ (উর্দু)
قرآن کی تفسیر کا بیان
হাদীস নং: ২৯৮০
قرآن کی تفسیر کا بیان
سورت بقرہ کے متعلق
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ عمر (رض) رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں تو ہلاک ہوگیا، آپ نے فرمایا : کس چیز نے تمہیں ہلاک کردیا ؟ کہا : رات میں نے سواری تبدیل کردی (یعنی میں نے بیوی سے آگے کے بجائے پیچھے کی طرف سے صحبت کرلی) ابن عباس (رض) کہتے ہیں : رسول اللہ ﷺ نے (یہ سن کر) انہیں کوئی جواب نہ دیا، تو آپ پر یہ آیت : «نساؤكم حرث لکم فأتوا حرثکم أنى شئتم» نازل ہوئی، بیوی سے آگے سے صحبت کرو چاہے پیچھے کی طرف سے کرو، مگر دبر سے اور حیض سے بچو۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن غریب ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف (أخرجہ النسائي في الکبری) (تحفة الأشراف : ٥٤٦٩) ، وانظر مسند احمد (١/٢٩٧) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : حسن الآداب (28 - 29) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2980
حدیث نمبر: 2980 حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَشْعَرِيُّ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي الْمُغِيرَةِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: جَاءَ عُمَرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلَكْتُ، قَالَ: وَمَا أَهْلَكَكَ ؟ قَالَ: حَوَّلْتُ رَحْلِي اللَّيْلَةَ، قَالَ: فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا، قَالَ: فَأَنْزَلَ اللهُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذِهِ الْآيَةَ: نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ سورة البقرة آية 223 أَقْبِلْ وَأَدْبِرْ وَاتَّقِ الدُّبُرَ وَالْحَيْضَةَ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَيَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَشْعَرِيُّ هُوَ يَعْقُوبُ الْقُمِّيُّ.