আল জামিউল কাবীর- ইমাম তিরমিযী রহঃ (উর্দু)

گواہیوں کا بیان

হাদীস নং: ২৩৬১
گواہیوں کا بیان
رسول اللہ ﷺ اور آپ کے گھر والوں کا رہن سہن
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ دعا کی «اللهم اجعل رزق آل محمد قوتا» اے اللہ ! محمد ﷺ کے گھر والوں کو صرف اتنی روزی دے جس سے ان کے جسم کا رشتہ برقرار رہ سکے ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الرقاق ١٧ (٦٤٦٠) ، صحیح مسلم/الزکاة ٤٣ (١٠٥٥) ، والزہد ١ (١٠٥٥/١٨) ، سنن ابن ماجہ/الزہد ٩ (٤١٣٦) (تحفة الأشراف : ١٤٨٩٨) ، و مسند احمد (٢/٢٣٢، ٤٤٦، ٤٨١) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : آپ ﷺ ایسی زندگی گزارنا پسند کرتے تھے جو دنیوی آلائشوں اور آرام و آسائش سے پاک ہو ، کیونکہ بعثت نبوی کا مقصد ہی یہ تھا کہ وہ لوگوں کو دنیا کے ہنگاموں ، مشاغل اور زیب و زینت سے ہٹا کر آخرت کی طرف متوجہ کریں ، اسی لیے آپ ﷺ نے اپنے اور اپنے گھر والوں کے حق میں مذکورہ دعا فرمائی ، آپ کی اس دعا سے علماء اور داعیان اسلام کو نصیحت حاصل کرنا چاہیئے کہ ہماری زندگی سادگی کا نمونہ اور دنیاوی تکلفات سے پاک ہو ، اگر اللہ ہمیں مال و دولت سے نوازے تو مالدار صحابہ کرام کا کردار ہمارے پیش نظر ہونا چاہیئے تاہم مال و دولت کا زیادہ سے زیادہ حصول ہماری زندگی کا مقصد نہیں ہونا چاہیئے اور نہ اس کے لیے ہر قسم کا حربہ و ہتھکنڈہ استعمال کرنا چاہیئے خواہ اس حربے اور ہتھکنڈے کا استعمال کسی دینی کام کے آڑ میں ہی کیوں نہ ہو۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (4136) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2361
حدیث نمبر: 2361 حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ اللَّهُمَّ اجْعَلْ رِزْقَ آلِ مُحَمَّدٍ قُوتًا ،‏‏‏‏ قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
tahqiqতাহকীক:তাহকীক চলমান