আল জামিউল কাবীর- ইমাম তিরমিযী রহঃ (উর্দু)
گواہیوں کا بیان
হাদীস নং: ২৩৪৩
گواہیوں کا بیان
دنیا سے بے رغبتی کے بارے میں
ابوامامہ کہتے ہیں کہ رسول ﷺ نے فرمایا : ابن آدم ! اگر تو اپنی حاجت سے زائد مال اللہ کی راہ میں خرچ کرے گا تو یہ تیرے لیے بہتر ہوگا، اور اگر تو اسے روک رکھے گا تو یہ تیرے لیے برا ہوگا، اور بقدر کفاف خرچ کرنے میں تیری ملامت نہیں کی جائے گی اور صدقہ و خیرات دیتے وقت ان لوگوں سے شروع کر جن کی کفالت تیرے ذمہ ہے، اور اوپر والا (دینے والا) ہاتھ نیچے والے ہاتھ (مانگنے والے) سے بہتر ہے ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الزکاة ٣٢ (١٠٣٦) (تحفة الأشراف : ٤٨٧٩) ، و مسند احمد (٥/٢٦٢) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : مفہوم یہ ہے کہ اگر اللہ نے تمہیں مال و دولت سے نوازا ہے تو اس سے اپنی اور اپنے اہل و عیال کی ضرورت و حاجت کا خیال رکھو اور ضرورت سے زائد مال حاجتمندوں اور مستحقین کے درمیان تقسیم کر دو کیونکہ جمع خوری کا نتیجہ دنیا اور آخرت دونوں جگہ صحیح نہیں ، جمع خوری سے معاشرے میں بہت سی خرابیاں پیدا ہوجاتی ہیں ، اور آخرت میں بخل کا جو انجام ہے وہ بالکل واضح ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، الإرواء (3 / 318 ) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2343
حدیث نمبر: 2343 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ هُوَ الْيَمَامِيُّ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا شَدَّادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَال: سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا ابْنَ آدَمَ، إِنَّكَ إِنْ تَبْذُلِ الْفَضْلَ خَيْرٌ لَكَ، وَإِنْ تُمْسِكْهُ شَرٌّ لَكَ، وَلَا تُلَامُ عَلَى كَفَافٍ، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ، وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَشَدَّادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ يُكْنَى: أَبَا عَمَّارٍ.