আল জামিউল কাবীর- ইমাম তিরমিযী রহঃ (উর্দু)
گواہیوں کا بیان
হাদীস নং: ২৩৩৫
گواہیوں کا بیان
امیدوں کے کم ہونے کے متعلق
عبداللہ بن عمرو (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس سے گزرے، ہم اپنا چھپر کا مکان درست کر رہے تھے، آپ نے پوچھا : یہ کیا ہے ؟ ہم نے عرض کیا کہ یہ گھر بوسیدہ ہوچکا ہے، لہٰذا ہم اس کو ٹھیک کر رہے ہیں، آپ نے فرمایا : میں تو معاملے (موت) کو اس سے بھی زیادہ قریب دیکھ رہا ہوں ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الأدب ١٦٩ (٥٢٣٥) ، سنن ابن ماجہ/الزہد ١٣ (٤١٦٠) (تحفة الأشراف : ٨٦٥٠) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : آپ کے ارشاد کا مطلب یہ نہیں ہے کہ مکان کی لیپا پوتی اور اس کی اصلاح و مرمت نہ کی جائے بلکہ مراد اس سے موت کی یاد دہانی ہے ، تاکہ موت ہر وقت انسان کے سامنے رہے اور کسی وقت بھی اس سے غفلت نہ برتے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، المشکاة (5275 / التحقيق الثانی) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2335
حدیث نمبر: 2335 حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي السَّفَرِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: مَرَّ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نُعَالِجُ خُصًّا لَنَا، فَقَالَ: مَا هَذَا ؟ فَقُلْنَا: قَدْ وَهَى فَنَحْنُ نُصْلِحُهُ، قَالَ: مَا أَرَى الْأَمْرَ إِلَّا أَعْجَلَ مِنْ ذَلِكَ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَأَبُو السَّفَرِ اسْمُهُ سَعِيدُ بْنُ يُحْمِدَ، وَيُقَالُ: ابْنُ أَحْمَدَ الثَّوْرِيُّ.