আল জামিউল কাবীর- ইমাম তিরমিযী রহঃ (উর্দু)

گواہیوں کا بیان

হাদীস নং: ২৩৩৩
گواہیوں کا بیان
امیدوں کے کم ہونے کے متعلق
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے میرے بدن کے بعض حصے کو پکڑ کر فرمایا : تم دنیا میں ایسے رہو گویا تم ایک مسافر یا راہ گیر ہو، اور اپنا شمار قبر والوں میں کرو ۔ مجاہد کہتے ہیں : ابن عمر (رض) نے مجھ سے کہا : جب تم صبح کرو تو شام کا یقین مت رکھو اور جب شام کرو تو صبح کا یقین نہ رکھو، اور بیماری سے قبل صحت و تندرستی کی حالت میں اور موت سے قبل زندگی کی حالت میں کچھ کرلو اس لیے کہ اللہ کے بندے ! تمہیں نہیں معلوم کہ کل تمہارا نام کیا ہوگا ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : اعمش نے مجاہد سے، مجاہد نے ابن عمر (رض) سے اس حدیث کی اسی طرح سے روایت کی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الرقاق ٣ (٦٤١٦) ، سنن ابن ماجہ/الزہد ٣ (٤١١٤) (تحفة الأشراف : ٧٣٨٦) ، و مسند احمد (٢/٢٤، ١٣١) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : اس حدیث میں دنیا سے بےرغبتی اور دنیاوی آرزوئیں کم رکھنے کا بیان ہے ، مفہوم یہ ہے کہ جس طرح ایک مسافر دوران سفر کچھ وقت کے لیے کسی جگہ قیام کرتا ہے ، تم دنیا کو اپنے لیے ایسا ہی سمجھو ، بلکہ اپنا شمار قبر والوں میں کرو ، گویا تم دنیا سے جا چکے ، اسی لیے آگے فرمایا : صبح پالینے کے بعد شام کا انتظار مت کرو اور شام پالینے کے بعد صبح کا انتظار مت کرو بلکہ اپنی صحت و تندرستی کے وقت مرنے کے بعد والی زندگی کے لیے کچھ تیاری کرلو ، کیونکہ تمہیں کچھ خبر نہیں کہ کل تمہارا شمار مردوں میں ہوگا یا زندوں میں۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، الصحيحة (1157) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2333 اس سند سے بھی ابن عمر (رض) سے اسی جیسی حدیث مروی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ماقبلہ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح، الصحيحة (1157 ) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2333
حدیث نمبر: 2333 حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ:‏‏‏‏ أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبَعْضِ جَسَدِي بِمِنْكَبِي، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ كُنْ فِي الدُّنْيَا كَأَنَّكَ غَرِيبٌ أَوْ عَابِرُ سَبِيلٍ، ‏‏‏‏‏‏وَعُدَّ نَفْسَكَ فِي أَهْلِ الْقُبُورِ ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ لِي ابْنُ عُمَرَ:‏‏‏‏ إِذَا أَصْبَحْتَ فَلَا تُحَدِّثْ نَفْسَكَ بِالْمَسَاءِ، ‏‏‏‏‏‏وَإِذَا أَمْسَيْتَ فَلَا تُحَدِّثْ نَفْسَكَ بِالصَّبَاحِ، ‏‏‏‏‏‏وَخُذْ مِنْ صِحَّتِكَ قَبْلَ سَقَمِكَ، ‏‏‏‏‏‏وَمِنْ حَيَاتِكَ قَبْلَ مَوْتِكَ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّكَ لَا تَدْرِي يَا عَبْدَ اللَّهِ مَا اسْمُكَ غَدًا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَقَدْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ الْأَعْمَشُ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، نَحْوَهُ. حدیث نمبر: 2336 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏نَحْوَهُ.
tahqiqতাহকীক:তাহকীক চলমান