আল জামিউল কাবীর- ইমাম তিরমিযী রহঃ (উর্দু)

گواہیوں کا بیان

হাদীস নং: ২৩৩০
گواہیوں کا بیان
دنیا کی محبت اور اس کے متعلق غمگین ہونا
ابوبکرہ (رض) سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! لوگوں میں سب سے بہتر شخص کون ہے ؟ آپ نے فرمایا : جس کی عمر لمبی ہو اور عمل نیک ہو ، اس آدمی نے پھر پوچھا کہ لوگوں میں سب سے بدتر شخص کون ہے ؟ آپ نے فرمایا : جس کی عمر لمبی ہو اور عمل برا ہو ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ١١٦٨٩) (صحیح) (سند میں علی بن زید بن جدعان ضعیف راوی ہیں، لیکن شواہد کی بنا پر جیسے سابقہ حدیث سے یہ حدیث صحیح ہے ) وضاحت : ١ ؎ : ایک تاجر کی نگاہ میں راس المال اور سرمایہ کی جو حیثیت ہے وہی حیثیت اور مقام وقت کا ہے ، تاجر اپنے سرمایہ کو ہمیشہ بڑھانے کا خواہشمند ہوتا ہے ، اسی طرح لمبی مدت پانے والے کو چاہیئے کہ اس کے اوقات زیادہ سے زیادہ نیکی کے کاموں میں گزاریں ، اگر اس نے اپنی زندگی کے اس سرمایہ کو اسی طرح باقی رکھا تو جس طرح سرمایہ بڑھانے کا خواہشمند تاجر اکثر نفع کماتا ہے ، اسی طرح یہ بھی فائدہ ہی حاصل کرتا رہے گا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح بما قبله (2329) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2330
حدیث نمبر: 2330 حَدَّثَنَا أَبُو حَفْصٍ عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلًا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏أَيُّ النَّاسِ خَيْرٌ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ مَنْ طَالَ عُمُرُهُ وَحَسُنَ عَمَلُهُ قَالَ:‏‏‏‏ فَأَيُّ النَّاسِ شَرٌّ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ مَنْ طَالَ عُمُرُهُ وَسَاءَ عَمَلُهُ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
tahqiqতাহকীক:তাহকীক চলমান