আল জামিউল কাবীর- ইমাম তিরমিযী রহঃ (উর্দু)
گواہیوں کا بیان
হাদীস নং: ২৩২৬
گواہیوں کا بیان
دنیا کی محبت اور اس کے متعلق غمگین ہونا
عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو شخص فاقہ کا شکار ہو اور اس پر صبر نہ کر کے لوگوں سے بیان کرتا پھرے ١ ؎ تو اس کا فاقہ ختم نہیں ہوگا، اور جو فاقہ کا شکار ہو اور اسے اللہ کے حوالے کر کے اس پر صبر سے کام لے تو قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے دیر یا سویر روزی دے ٢ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الزکاة ٢٩ (١٦٤٥) (تحفة الأشراف : ٩٣١٩) ، و مسند احمد (١/٣٨٩) (صحیح) ” بموت عاجل أو غني عاجل “ ) کے لفظ سے صحیح ہے، صحیح سنن ابی داود ١٤٥٢، الصحیحة ٢٨٨٧ ) وضاحت : ١ ؎ : یعنی لوگوں سے اپنی محتاجی اور لاچاری کا تذکرہ کر کے ان کے آگے ہاتھ پھیلائے تو ایسے شخص کی ضرورت کبھی پوری نہیں ہوگی ، اور اگر وقتی طور پر پوری ہو بھی گئی تو پھر اس سے زیادہ سخت دوسری ضرورتیں اس کے سامنے آئیں گی جن سے نمٹنا اس کے لیے آسان نہ ہوگا۔ ٢ ؎ : چونکہ اس نے صبر سے کام لیا ، اس لیے اللہ تعالیٰ اسے دنیا میں رزق عطا فرمائے گا ، یا آخرت میں اسے ثواب سے نوازے گا ، معلوم ہوا کہ حاجت و ضرورت کے وقت انسانوں کی بجائے اللہ کی طرف رجوع کیا جائے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح بلفظ : ... بموت عاجل أو غنی عاجل ، صحيح أبي داود (1452) ، الصحيحة (2787) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2326
حدیث نمبر: 2326 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ بَشِيرٍ أَبِي إِسْمَاعِيل، عَنْ سَيَّارٍ، عَنْطَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ نَزَلَتْ بِهِ فَاقَةٌ فَأَنْزَلَهَا بِالنَّاسِ لَمْ تُسَدَّ فَاقَتُهُ، وَمَنْ نَزَلَتْ بِهِ فَاقَةٌ فَأَنْزَلَهَا بِاللَّهِ فَيُوشِكُ اللَّهُ لَهُ بِرِزْقٍ عَاجِلٍ أَوْ آجِلٍ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.