আল জামিউল কাবীর- ইমাম তিরমিযী রহঃ (উর্দু)
قرآن کی تفسیر کا بیان
হাদীস নং: ৩০৩৪
قرآن کی تفسیر کا بیان
سورت نساء کی تفسیر کے بارے میں
یعلیٰ بن امیہ (رض) کہتے ہیں کہ میں نے عمر (رض) سے کہا : اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : «أن تقصروا من الصلاة إن خفتم أن يفتنکم» تم پر نمازوں کے قصر کرنے میں کوئی گناہ نہیں، اگر تمہیں ڈر ہو کہ کافر تمہیں پریشان کریں گے (النساء : ١٠١ ) ، اور اب تو لوگ امن و امان میں ہیں (پھر قصر کیوں کر جائز ہوگی ؟ ) عمر (رض) نے کہا : جو بات تمہیں کھٹکی وہ مجھے بھی کھٹک چکی ہے، چناچہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے اس کا ذکر کیا، تو آپ نے فرمایا : یہ اللہ کی جانب سے تمہارے لیے ایک صدقہ ہے جو اللہ نے تمہیں عنایت فرمایا ہے، پس تم اس کے صدقے کو قبول کرلو ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/المسافرین ١ (٦٨٦) ، سنن ابی داود/ الصلاة ٢٧٠ (١١٩٩) ، سنن النسائی/تقصیر الصلاة ١ (١٤٣٤) ، سنن ابن ماجہ/الإقامة ٧٣ (١٠٦٥) (تحفة الأشراف : ١٠٦٥٩) ، و مسند احمد (١/٢٥، ٣٦) ، وسنن الدارمی/الصلاة ١٧٩ (١٥٤٦) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (1065) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3034
حدیث نمبر: 3034 حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَال: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍيُحَدِّثُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَابَاهُ، عَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ، قَالَ: قُلْتُ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ: إِنَّمَا قَالَ اللَّهُ: أَنْ تَقْصُرُوا مِنَ الصَّلاةِ إِنْ خِفْتُمْ أَنْ يَفْتِنَكُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا سورة النساء آية 101، وَقَدْ أَمِنَ النَّاسُ، فَقَالَ عُمَرُ: عَجِبْتُ مِمَّا عَجِبْتَ مِنْهُ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: صَدَقَةٌ تَصَدَّقَ اللَّهُ بِهَا عَلَيْكُمْ، فَاقْبَلُوا صَدَقَتَهُ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.