আল জামিউল কাবীর- ইমাম তিরমিযী রহঃ (উর্দু)
قرآن کی تفسیر کا بیان
হাদীস নং: ৩০২৮
قرآن کی تفسیر کا بیان
سورت نساء کی تفسیر کے بارے میں
عبداللہ بن یزید (رض) سے روایت ہے کہ زید بن ثابت (رض) آیت : «فما لکم في المنافقين فئتين» کی تفسیر کے سلسلے میں کہتے ہیں احد کی لڑائی کے دن رسول اللہ ﷺ کے کچھ (ساتھی یعنی منافق میدان جنگ سے) لوٹ آئے ١ ؎ تو لوگ ان کے سلسلے میں دو گروہوں میں بٹ گئے۔ ایک گروہ نے کہا : انہیں قتل کر دو ، اور دوسرے فریق نے کہا : نہیں، قتل نہ کرو تو یہ آیت «فما لکم في المنافقين فئتين» ١ ؎ نازل ہوئی، اور آپ نے فرمایا : مدینہ پاکیزہ شہر ہے، یہ ناپاکی و گندگی کو (إن شاء اللہ) ایسے دور کر دے گا جیسے آگ لوہے کی ناپاکی (میل و زنگ) کو دور کردیتی ہے۔ (یہ منافق یہاں رہ نہ سکیں گے) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - عبداللہ بن یزید انصاری خطمی ہیں اور انہیں نبی اکرم ﷺ کی صحبت حاصل ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/فضائل المدینة ١٠ (١٨٨٤) ، والمغازي ١٧ (٤٠٥٠) ، وتفسیر النساء ١٥ (٤٥٨٩) ، صحیح مسلم/المناسک ٨٨ (١٣٨٤) ، والمنافقین ٦ (٢٧٧٦) (تحفة الأشراف : ٣٧٢٧) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : جہاد میں شریک نہ ہوئے۔ ٢ ؎ : تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ منافقوں کے بارے میں دو گروہ ہو رہے ہو (النساء : ٨٨ ) ۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3028
حدیث نمبر: 3028 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، قَال: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَيُحَدِّثُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، أَنَّهُ قَالَ فِي هَذِهِ الْآيَةِ: فَمَا لَكُمْ ينَ فِئَتَيْنِ سورة النساء آية 88، قَالَ: رَجَعَ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ، فَكَانَ النَّاسُ فِيهِمْ فَرِيقَيْنِ: فَرِيقٌ يَقُولُ اقْتُلْهُمْ، وَفَرِيقٌ يَقُولُ: لَا، فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةَ فَمَا لَكُمْ فِي الْمُنَافِقِينَ فِئَتَيْنِ سورة النساء آية 88، وَقَالَ: إِنَّهَا طِيبَةُ، وَقَالَ: إِنَّهَا تَنْفِي الْخَبَثَ كَمَا تَنْفِي النَّارُ خَبَثَ الْحَدِيدِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيَدَ هُوَ الْأَنْصَارِيُّ الْخَطْمِيُّ وَلَهُ صُحْبَةٌ.