আল জামিউল কাবীর- ইমাম তিরমিযী রহঃ (উর্দু)
جہاد کا بیان
হাদীস নং: ১৭১৪
جہاد کا بیان
مشورے کے بارے میں
عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ جب بدر کے دن قیدیوں کو لایا گیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ان کے بارے میں تم لوگ کیا کہتے ہو ، پھر راوی نے اس حدیث میں ایک طویل قصہ بیان کیا ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن ہے، ٢ - ابوعبیدہ نے اپنے باپ سے نہیں سنا ہے، ٣ - ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں : میں نے رسول اللہ ﷺ سے بڑھ کر کسی کو نہیں دیکھا جو اپنے ساتھیوں سے زیادہ مشورہ لیتا ہو ٢ ؎، ٤ - اس حدیث میں عمر، ابوایوب، انس اور ابوہریرہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف وأعادہ في تفسیر الأنفال (٣٠٨٤) ، (تحفة الأشراف : ٩٦٢٨) (ضعیف) (ابو عبیدہ کا اپنے باپ ابن مسعود (رض) سے سماع نہیں ہے ) وضاحت : ١ ؎ : قصہ (اختصار کے ساتھ) یہ ہے کہ عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں : بدر کے قیدیوں کی بابت نبی اکرم ﷺ نے اپنے اصحاب سے مشورہ لیا ، ابوبکر (رض) کی رائے تھی کہ ان کے ساتھ نرم دلی برتی جائے اور ان سے فدیہ لے کر انہیں چھوڑ دیا جائے ، عمر (رض) نے کہا : یہ آپ کی تکذیب کرنے والے لوگ ہیں ، انہیں معاف کرنا صحیح نہیں ہے ، بلکہ آپ حکم دیں کہ ہم میں سے ہر ایک اپنے قریبی ساتھی کا سر قلم کرے ، جب کہ بعض کی رائے تھی کہ سوکھی لکڑیوں کے انبار میں سب کو ڈال کر جلا دیا جائے ، نبی اکرم ﷺ سب کی باتیں سن کر خاموش رہے ، اندر گئے پھر باہر آ کر فرمایا : اللہ تعالیٰ بعض دلوں کو دودھ کی طرح نرم کردیتا ہے جب کہ بعض کو پتھر کی طرح سخت کردیتا ہے ، ابوبکر (رض) کی مثال ابراہیم و عیسیٰ سے دی ، عمر (رض) کی نوح سے اور عبداللہ بن رواحہ (رض) کی موسیٰ (علیہ السلام) سے ، پھر آپ نے ابوبکر (رض) کی رائے پسند کی اور فدیہ لے کر سب کو چھوڑ دیا ، دوسرے دن جب عمر (رض) آئے تو رسول اللہ ﷺ اور ابوبکر (رض) کو روتا دیکھ کر عرض کیا ، اللہ کے رسول ! رونے کا کیا سبب ہے ؟ اگر مجھے معلوم ہوجاتا تو میں بھی شامل ہوجاتا ، یا روہانسی صورت بنا لیتا ، آپ ﷺ نے فرمایا : بدر کے قیدیوں سے فدیہ قبول کرنے کے سبب تمہارے ساتھیوں پر جو عذاب آنے والا تھا اور اس درخت سے قریب ہوگیا تھا اس کے سبب رو رہا ہوں ، پھر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی «ما کان لنبي أن يكون له أسری حتی يثخن في الأرض» (الأنفال : ٦٧ ) ۔ ٢ ؎ : اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اسلام میں مشورہ کی کافی اہمیت ہے ، اگر مسلمانوں کے سارے کام باہمی مشورہ سے انجام دیئے جائیں تو ان میں کافی خیر و برکت ہوگی ، اور رب العالمین کی طرف سے ان کاموں کے لیے آسانیاں فراہم ہوں گی اور اس کی مدد شامل حال ہوگی۔ قال الشيخ الألباني : ضعيف، الإرواء (5 / 47 - 48) ، وسيأتي (5080 // 598 / 3293 // بزيادة في المتن) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1714
حدیث نمبر: 1714 حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ بَدْرٍ، وَجِيءَ بِالْأُسَارَى، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا تَقُولُونَ فِي هَؤُلَاءِ الْأُسَارَى ؟ ، فَذَكَرَ قِصَّةً فِي هَذَا الْحَدِيثِ طَوِيلَةً، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَاب، عَنْ عُمَرَ، وَأَبِي أَيُّوبَ، وَأَنَسٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَأَبُو عُبَيْدَةَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِيهِ، وَيُرْوَى عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: مَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَكْثَرَ مَشُورَةً لِأَصْحَابِهِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.