আল জামিউল কাবীর- ইমাম তিরমিযী রহঃ (উর্দু)
جہاد کا بیان
হাদীস নং: ১৬৯৯
جہاد کا بیان
گھڑ دوڑ
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے «تضمیر» کیے ہوئے گھوڑوں کی مقام حفیاء سے ثنیۃ الوداع تک دوڑ کرائی، ان دونوں کے درمیان چھ میل کا فاصلہ ہے، اور جو «تضمیر» کیے ہوئے نہیں تھے ان کو ثنیۃ الوداع سے مسجد بنی زریق تک گھڑ دوڑ کرائی، ان دونوں کے درمیان ایک میل کا فاصلہ ہے، گھڑ دوڑ کے مقابلہ میں میں بھی شامل تھا، چناچہ میرا گھوڑا مجھے لے کر ایک دیوار کود گیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - ثوری کی روایت سے یہ حدیث صحیح حسن غریب ہے، ٢ - اس باب میں ابوہریرہ، جابر، عائشہ اور انس (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الجہاد ٥٦ (٢٨٦٨) ، و ٥٧ (٢٨٦٩) ، و ٥٨ (٢٨٧٠) ، والاعتصام ٦ (٧٣٣٦) ، صحیح مسلم/الإمارة ٢٥ (١٨٧٠) ، سنن ابی داود/ الجہاد ٦٧ (٢٥٧٥) ، سنن النسائی/الخیل ١٢ (٣٦١٣) ، و ١٣ (٣٦١٤) ، سنن ابن ماجہ/الجہاد ٤٤ (٢٨٧٧) ، (تحفة الأشراف : ٧٨٩٥) ، وط/الجہاد ١٩ (٤٥) ، و مسند احمد (٢/٥، ٥٥-٥٦) سنن الدارمی/الجہاد ٣٦ (٢٤٧٣) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : اس حدیث سے جہاد کی تیاری کے لیے گھڑ دوڑ ، تیر اندازی ، اور نیزہ بازی کا جواز ثابت ہوتا ہے ، نبی اکرم ﷺ کے دور میں عموماً یہی چیزیں جنگ میں کام آتی تھیں ، حدیث کو سامنے رکھتے ہوئے ضرورت ہے کہ آج کے دور میں راکٹ ، میزائل ، ٹینک اور بکتر بند گاڑیاں چلانے کا تجربہ حاصل کیا جائے ، ساتھ ہی بندوق توپ اور ہر قسم کے جدید جنگی آلات کی تربیت حاصل کی جائے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (2877) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1699
حدیث نمبر: 1699 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَزِيرٍ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ يُوسُفَ الْأَزْرَقُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْنَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَجْرَى الْمُضَمَّرَ مِنَ الْخَيْلِ مِنْ الْحَفْيَاءِ إِلَى ثَنِيَّةِ الْوَدَاعِ وَبَيْنَهُمَا سِتَّةُ أَمْيَالٍ، وَمَا لَمْ يُضَمَّرْ مِنَ الْخَيْلِ مِنْ ثَنِيَّةِ الْوَدَاعِ إِلَى مَسْجِدِ بَنِي زُرَيْقٍ وَبَيْنَهُمَا مِيلٌ، وَكُنْتُ فِيمَنْ أَجْرَى، فَوَثَبَ بِي فَرَسِي جِدَارًا ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَاب، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَجَابِرٍ، وَعَائِشَةَ، وَأَنَسٍ، وَهَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، مِنْ حَدِيثِ الثَّوْرِيِّ.