আল জামিউল কাবীর- ইমাম তিরমিযী রহঃ (উর্দু)

جہاد کا بیان

হাদীস নং: ১৬৮৮
جہاد کا بیان
لڑائی کے وقت ثابت قدم رہنا
براء بن عازب (رض) کہتے ہیں کہ ہم سے ایک آدمی نے کہا : ابوعمارہ ! ١ ؎ کیا آپ لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس سے فرار ہوگئے تھے ؟ کہا : نہیں، اللہ کی قسم ! رسول اللہ ﷺ نے پیٹھ نہیں پھیری، بلکہ جلد باز لوگوں نے پیٹھ پھیری تھی، قبیلہ ہوازن نے ان پر تیروں سے حملہ کردیا تھا، رسول اللہ ﷺ اپنے خچر پر سوار تھے، ابوسفیان بن حارث بن عبدالمطلب خچر کی لگام تھامے ہوئے تھے ٢ ؎، اور رسول اللہ ﷺ فرما رہے تھے : میں نبی ہوں، جھوٹا نہیں ہوں، میں عبدالمطلب کا بیٹا ہوں ٣ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں علی اور ابن عمر (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الجہاد ٦١ (٢٨٨٤) ، و ٩٧ (٢٩٣٠) ، والمغازي ٥٤ (٤٣١٥-٤٣١٧) ، صحیح مسلم/الجہاد ٢٨ (١٧٧٦) ، (تحفة الأشراف : ١٨٤٨) ، و مسند احمد (٤/٢٨٩) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : یہ براء بن عازب (رض) کی کنیت ہے۔ ٢ ؎ : ابوسفیان بن حارث نبی اکرم ﷺ کے چچا زاد بھائی ہیں ، مکہ فتح ہونے سے پہلے اسلام لے آئے تھے ، نبی اکرم ﷺ مکہ کی جانب فتح مکہ کے سال روانہ تھے ، اسی دوران ابوسفیان مکہ سے نکل کر نبی اکرم ﷺ سے راستہ ہی میں جا ملے ، اور اسلام قبول کرلیا ، پھر غزوہ حنین میں شریک ہوئے اور ثبات قدمی کا مظاہرہ کیا۔ ٣ ؎ : اس طرح کے موزون کلام آپ ﷺ کی زبان مبارک سے بلاقصد و ارادہ نکلے تھے ، اس لیے اس سے استدلال کرنا کہ آپ شعر بھی کہہ لیتے تھے درست نہیں ، اور یہ کیسے ممکن ہے جب کہ قرآن خود شہادت دے رہا ہے کہ آپ کے لیے شاعری قطعاً مناسب نہیں ، عبدالمطلب کی طرف نسبت کی وجہ غالباً یہ ہے کہ یہ لوگوں میں مشہور شخصیت تھی ، یہی وجہ ہے کہ عربوں کی اکثریت آپ ﷺ کو ابن عبدالمطلب کہہ کر پکارتی تھی ، چناچہ ضمام بن ثعلبہ (رض) نے جب آپ کے متعلق پوچھا تو یہ کہہ کر پوچھا :«أيكم ابن عبدالمطلب ؟»۔ قال الشيخ الألباني : صحيح مختصر الشمائل (209) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1688
حدیث نمبر: 1688 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاق، عَنْ الْبَرَاءِ بِنِ عَازِبٍ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ لَنَا رَجُلٌ:‏‏‏‏ أَفَرَرْتُمْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا أَبَا عُمَارَةَ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ لَا وَاللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏مَا وَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَلَكِنْ وَلَّى سَرَعَانُ النَّاسِ تَلَقَّتْهُمْ هَوَازِنُ بِالنَّبْلِ، ‏‏‏‏‏‏وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَغْلَتِهِ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبُو سُفْيَانَ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ آخِذٌ بِلِجَامِهَا، ‏‏‏‏‏‏وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:‏‏‏‏ أَنَا النَّبِيُّ لَا كَذِبْ، ‏‏‏‏‏‏أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبْ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَلِيٍّ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
tahqiqতাহকীক:তাহকীক চলমান
জামে' তিরমিযী (উর্দু) - হাদীস নং ১৬৮৮ | মুসলিম বাংলা