আল জামিউল কাবীর- ইমাম তিরমিযী রহঃ (উর্দু)
جہاد کا بیان
হাদীস নং: ১৬৮৪
جہاد کا بیان
جنگ کے وقت روزہ افطار کرنا
ابو سعید خدری (رض) کہتے ہیں کہ فتح مکہ کے سال جب نبی اکرم ﷺ مرالظہران ١ ؎ پہنچے اور ہم کو دشمن سے مقابلہ کی خبر دی تو آپ نے روزہ توڑنے کا حکم دیا، لہٰذا ہم سب لوگوں نے روزہ توڑ دیا ٢ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں عمر سے بھی روایت ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف، (تحفة الأشراف : ٤٢٨٤) (صحیح) وأخرجہ : صحیح مسلم/الصیام ١٦ (١١٢٠) ، سنن ابی داود/ الصیام ٤٢ (٢٤٠٦) ، سنن النسائی/الصیام ٥٩ (٢٣١١ ) وضاحت : ١ ؎ : مکہ اور عسفان کے درمیان ایک وادی کا نام ہے۔ ٢ ؎ : اگر مجاہدین ایسے مقام تک پہنچ چکے ہیں جس سے آگے دشمن سے ملاقات کا ڈر ہے تو ایسی صورت میں روزہ توڑ دینا بہتر ہے ، اور اگر یہ امر یقینی ہے کہ دشمن آگے مقابلہ کے لیے موجود ہے تو روزہ توڑ دینا ضروری ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، صحيح أبي داود (2081) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1684
حدیث نمبر: 1684 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَى، أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَنْبَأَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ عَطِيَّةَ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ قَزَعَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: لَمَّا بَلَغَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ، مَرَّ الظَّهْرَانِ، فَآذَنَنَا بِلِقَاءِ الْعَدُوِّ، فَأَمَرَنَا بِالْفِطْرِ، فَأَفْطَرْنَا أَجْمَعُونَ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَفِي الْبَاب، عَنْ عُمَرَ.