আল জামিউল কাবীর- ইমাম তিরমিযী রহঃ (উর্দু)
جہاد کا بیان
হাদীস নং: ১৬৩৭
جہاد کا بیان
اللہ کے راستے میں تیر اندازی کی فضیلت کے بارے میں۔
عبداللہ بن عبدالرحمٰن ابن ابی الحسین (رح) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ ایک تیر کی وجہ سے تین آدمیوں کو جنت میں داخل کرے گا : تیر بنانے والے کو جو بناتے وقت ثواب کی نیت رکھتا ہو، تیر انداز کو اور تیر دینے والے کو ، آپ نے فرمایا : تیر اندازی کرو اور سواری سیکھو، تمہارا تیر اندازی کرنا میرے نزدیک تمہارے سواری کرنے سے زیادہ پسندیدہ ہے، ہر وہ چیز جس سے مسلمان کھیلتا ہے باطل ہے سوائے کمان سے اس کا تیر اندازی کرنا، گھوڑے کو تربیت دینا اور اپنی بیوی کے ساتھ کھیلنا، یہ تینوں چیزیں اس کے لیے درست ہیں ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ١٨٩١٤) (ضعیف) (اس کی سند میں دو راوی تبع تابعی اور تابعی ساقط ہیں، لیکن ” كُلُّ مَا يَلْهُو بِهِ الرَّجُلُ الْمُسْلِمُ بَاطِلٌ إِلاَّ رَمْيَهُ بِقَوْسِهِ وَتَأْدِيبَهُ فَرَسَهُ وَمُلاَعَبَتَهُ أَهْلَهُ “ والا ٹکڑا اگلی سند سے تقویت پا کر صحیح ہے ) قال الشيخ الألباني : ضعيف، ابن ماجة (2811) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (618) ، وفي صحيح ابن ماجة برقم (2267) ، ضعيف أبي داود (540 / 2513) ، الصحيحة (315) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1637
حدیث نمبر: 1637 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ اللَّهَ لَيُدْخِلُ بِالسَّهْمِ الْوَاحِدِ ثَلَاثَةً الْجَنَّةَ، صَانِعَهُ يَحْتَسِبُ فِي صَنْعَتِهِ الْخَيْرَ، وَالرَّامِيَ بِهِ، وَالْمُمِدَّ بِهِ، وَقَالَ: ارْمُوا وَارْكَبُوا، وَلَأَنْ تَرْمُوا أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ تَرْكَبُوا، كُلُّ مَا يَلْهُو بِهِ الرَّجُلُ الْمُسْلِمُ بَاطِلٌ إِلَّا رَمْيَهُ بِقَوْسِهِ، وَتَأْدِيبَهُ فَرَسَهُ، وَمُلَاعَبَتَهُ أَهْلَهُ، فَإِنَّهُنَّ مِنَ الْحَقِّ .