আল জামিউল কাবীর- ইমাম তিরমিযী রহঃ (উর্দু)
جہاد کا بیان
হাদীস নং: ১৬১০
جہاد کا بیان
نبی اکرم ﷺ کا ترکہ۔
مالک بن اوس بن حدثان کہتے ہیں کہ میں عمر بن خطاب (رض) کے پاس گیا، اسی دوران ان کے پاس عثمان بن عفان، زبیر بن عوام، عبدالرحمٰن بن عوف اور سعد بن ابی وقاص (رض) بھی پہنچے، پھر علی اور عباس (رض) جھگڑتے ہوئے آئے، عمر (رض) نے ان سے کہا : میں تم لوگوں کو اس اللہ کی قسم دیتا ہوں جس کے حکم سے آسمان و زمین قائم ہے، تم لوگ جانتے ہو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے : ہمارا (یعنی انبیاء کا) کوئی وارث نہیں ہوتا، جو کچھ ہم چھوڑتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے ، لوگوں نے کہا : ہاں ! عمر (رض) نے کہا : جب رسول اللہ ﷺ وفات پا گئے، ابوبکر (رض) نے کہا : میں رسول اللہ ﷺ کا جانشین ہوں، پھر تم اپنے بھتیجے کی میراث میں سے اپنا حصہ طلب کرنے اور یہ اپنی بیوی کے باپ کی میراث طلب کرنے کے لیے ابوبکر (رض) کے پاس آئے، ابوبکر (رض) نے کہا : بیشک رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ہمارا (یعنی انبیاء کا) کوئی وارث نہیں ہوتا، ہم جو کچھ چھوڑتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے ، (عمر (رض) نے کہا) اللہ خوب جانتا ہے ابوبکر سچے، نیک، بھلے اور حق کی پیروی کرنے والے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : اس حدیث میں تفصیل ہے، یہ حدیث مالک بن اوس ١ ؎ کی روایت سے حسن صحیح غریب ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الخمس ١ (٣٠٩٤) ، والمغازي ١٤ (٤٠٣٣) ، والنفقات ٣ (٥٣٥٧) ، والفرائض ٣ (٦٧٢٨) ، والاعتصام ٥ (٧٣٠٥) ، صحیح مسلم/الجہاد ١٥ (١٧٥٧/٤٩) ، سنن ابی داود/ الخراج والإمارة ١٩ (٢٩٦٣) ، (تحفة الأشراف : ١٠٦٣٢) ، و مسند احمد (١/٢٥) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : ترمذی کے نسخوں میں «مالک بن أنس» ظاہر ہے کہ یہاں تفرد «مالک بن أوس» کا عمر بن خطاب سے ، جیسا کہ تخریج سے ظاہر ہے اس لیے صواب «مالک بن أوس» ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح مختصر الشمائل (341) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1610
حدیث نمبر: 1610 حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ، أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، وَدَخَلَ عَلَيْهِ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ، وَالزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ، وَسَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ، ثُمَّ جَاءَ عَلِيٌّ، وَالْعَبَّاسُ، يَخْتَصِمَانِ، فَقَالَ عُمَرُ لَهُمْ: أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ الَّذِي بِإِذْنِهِ تَقُومُ السَّمَاءُ وَالْأَرْضُ، تَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا نُورَثُ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ ؟ ، قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ عُمَرُ: فَلَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَنَا وَلِيُّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجِئْتَ أَنْتَ وَهَذَا إِلَى أَبِي بَكْرٍ تَطْلُبُ أَنْتَ مِيرَاثَكَ مِنَ ابْنِ أَخِيكَ، وَيَطْلُبُ هَذَا مِيرَاثَ امْرَأَتِهِ مِنْ أَبِيهَا، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا نُورَثُ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ ، وَاللَّهُ يَعْلَمُ إِنَّهُ صَادِقٌ بَارٌّ رَاشِدٌ تَابِعٌ لِلْحَقِّ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْحَدِيثِ قِصَّةٌ طَوِيلَةٌ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ.