আল জামিউল কাবীর- ইমাম তিরমিযী রহঃ (উর্দু)
جہاد کا بیان
হাদীস নং: ১৫৭৮
جہاد کا بیان
سجدہ شکر۔
ابوبکرہ (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک خبر آئی، آپ اس سے خوش ہوئے اور اللہ کے سامنے سجدہ میں گرگئے ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - ہم اس کو صرف اسی سند سے بکار بن عبدالعزیز کی روایت سے جانتے ہیں، ٣ - بکار بن عبدالعزیز بن ابی بکرہ مقارب الحدیث ہیں، ٤ - اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے، وہ سجدہ شکر کو درست سمجھتے ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الجہاد ١٧٤ (٢٧٧٤) ، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٩٢ (١٣٩٤) ، (تحفة الأشراف : ١١٦٩٨) (حسن ) وضاحت : ١ ؎ : کعب بن مالک (رض) کا سجدہ شکر بجا لانا صحیح روایات سے ثابت ہے ، اور مسیلمہ کذاب کے قتل کی خبر سن کر ابوبکر (رض) بھی سجدہ میں گرگئے تھے ، گویا ایسی خبر جس سے دل کو خوشی و مسرت حاصل ہو اس پر سجدہ شکر بجا لانا مشروع ہے۔ قال الشيخ الألباني : حسن، ابن ماجة (1394) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1578
حدیث نمبر: 1578 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا بَكَّارُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَتَاهُ أَمْرٌ فَسُرَّ بِهِ، فَخَرَّ لِلَّهِ سَاجِدًا ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ بَكَّارِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ رَأَوْا سَجْدَةَ الشُّكْرِ، وَبَكَّارُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ مُقَارِبُ الْحَدِيثِ.