আল জামিউল কাবীর- ইমাম তিরমিযী রহঃ (উর্দু)
خرید وفروخت کا بیان
হাদীস নং: ১৩১৫
خرید وفروخت کا بیان
بیع میں دھوکہ دینا حرام ہے۔
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک غلہ کے ڈھیر سے گزرے، تو آپ نے اس کے اندر اپنا ہاتھ داخل کردیا، آپ کی انگلیاں تر ہوگئیں تو آپ نے فرمایا : غلہ والے ! یہ کیا معاملہ ہے ؟ اس نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! بارش سے بھیگ گیا ہے، آپ نے فرمایا : اسے اوپر کیوں نہیں کردیا تاکہ لوگ دیکھ سکیں ، پھر آپ نے فرمایا : جو دھوکہ دے ١ ؎، ہم میں سے نہیں ہے ٢ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - ابوہریرہ (رض) کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں ابن عمر، ابوحمراء، ابن عباس، بریدہ، ابوبردہ بن دینار اور حذیفہ بن یمان (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣ - اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ وہ دھوکہ دھڑی کو ناپسند کرتے ہیں اور اسے حرام کہتے ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الإیمان ٤٣ (١٠٢) ، سنن ابی داود/ البیوع ٥٢ (٣٤٥٢) ، سنن ابن ماجہ/التجارات ٣٦ (٢٢٢٤) ، (تحفة الأشراف : ١٣٩٧٩) ، و مسند احمد (٢/٢٤٢) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ بیع میں دھوکہ دہی کی مختلف صورتیں ہیں ، مثلاً سودے میں کوئی عیب ہو اسے ظاہر نہ کرنا ، اچھے مال میں ردی اور گھٹیا مال کی ملاوٹ کردینا ، سودے میں کسی اور چیز کی ملاوٹ کردینا تاکہ اس کا وزن زیادہ ہوجائے وغیرہ وغیرہ۔ ٢ ؎ : ہم میں سے نہیں ، کا مطلب ہے مسلمانوں کے طریقے پر نہیں ، اس کا یہ فعل مسلمان کے فعل کے منافی ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (2224) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1315
حدیث نمبر: 1315 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَى صُبْرَةٍ مِنْ طَعَامٍ، فَأَدْخَلَ يَدَهُ فِيهَا، فَنَالَتْ أَصَابِعُهُ بَلَلًا، فَقَالَ: يَا صَاحِبَ الطَّعَامِ مَا هَذَا ، قَالَ: أَصَابَتْهُ السَّمَاءُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: أَفَلَا جَعَلْتَهُ فَوْقَ الطَّعَامِ حَتَّى يَرَاهُ النَّاسُ ، ثُمَّ قَالَ: مَنْ غَشَّ فَلَيْسَ مِنَّا . قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، وَأَبِي الْحَمْرَاءِ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَبُرَيْدَةَ، وَأَبِي بُرْدَةَ بْنِ نِيَارٍ، وَحُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ، كَرِهُوا الْغِشَّ وَقَالُوا: الْغِشُّ حَرَامٌ.