আল জামিউল কাবীর- ইমাম তিরমিযী রহঃ (উর্দু)
خرید وفروخت کا بیان
হাদীস নং: ১২৮৯
خرید وفروخت کا بیان
راہ گزرنے والے کے لئے راستے کے پھل کھانے کی اجازت
رافع بن عمرو (رض) کہتے ہیں کہ میں انصار کے کھجور کے درختوں پر پتھر مارتا تھا، ان لوگوں نے مجھے پکڑ لیا اور نبی اکرم ﷺ کے پاس لے گئے آپ نے پوچھا : رافع ! تم ان کے کھجور کے درختوں پر پتھر کیوں مارتے ہو ؟ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! بھوک کی وجہ سے، آپ نے فرمایا : پتھر مت مارو، جو خودبخود گرجائے اسے کھاؤ اللہ تمہیں آسودہ اور سیراب کرے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن غریب ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الجہاد ٩٤ (٢٦٢٢) ، سنن ابن ماجہ/التجارات ٦٧ (٢٢٩٩) ، (تحفة الأشراف : ٣٥٩٥) (ضعیف) (سند میں ” صالح “ اور ان کے باپ ” ابو جبیر “ دونوں مجہول ہیں، اور ابوداود وابن ماجہ کی سند میں ” ابن ابی الحکم “ مجہول ہیں نیز ان کی دادی مبہم ہیں ) قال الشيخ الألباني : ضعيف، ابن ماجة (2299) // ضعيف سنن ابن ماجة (504) ، ضعيف الجامع الصغير (6210) ، ضعيف أبي داود (564 / 2622) مع اختلاف باللفظ // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1288
حدیث نمبر: 1288 حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ الْخُزَاعِيُّ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ صَالِحِ بْنِ أَبِي جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْرَافِعِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: كُنْتُ أَرْمِي نَخْلَ الْأَنْصَارِ، فَأَخَذُونِي، فَذَهَبُوا بِي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَافِعُ، لِمَ تَرْمِي نَخْلَهُمْ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الْجُوعُ، قَالَ: لَا تَرْمِ، وَكُلْ مَا وَقَعَ أَشْبَعَكَ اللَّهُ وَأَرْوَاكَ . هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.