আল জামিউল কাবীর- ইমাম তিরমিযী রহঃ (উর্দু)
خرید وفروخت کا بیان
হাদীস নং: ১২৭৩
خرید وفروخت کا بیان
نر کو مادہ پر چھوڑنے کی اجرت لینے کی ممانعت
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے نر کو مادہ پر چھوڑنے کی اجرت لینے سے منع فرمایا ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - ابن عمر (رض) کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں ابوہریرہ، انس اور ابوسعید (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣ - بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ بعض علماء نے اس کام پر بخشش قبول کرنے کی اجازت دی ہے، جمہور کے نزدیک یہ نہی تحریمی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الإجارة ٢١ (٢٢٨٤) ، سنن ابی داود/ البیوع ٤٢ (٣٤٢٩) ، سنن النسائی/البیوع ٩٤ (٤٦٧٥) ، (تحفة الأشراف : ٨٢٣٣) ، و مسند احمد (٢/٤) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : چونکہ مادہ کا حاملہ ہونا قطعی نہیں ہے ، حمل قرار پانے اور نہ پانے دونوں کا شبہ ہے اسی لیے نبی اکرم ﷺ نے اس کی اجرت لینے سے منع فرمایا ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح أحاديث البيوع صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1273
حدیث نمبر: 1273 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، وَأَبُو عَمَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عُلَيَّةَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَكَمِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْابْنِ عُمَرَ، قَالَ: نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ عَسْبِ الْفَحْلِ . قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَأَنَسٍ، وَأَبِي سَعِيدٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ، وَقَدْ رَخَّصَ بَعْضُهُمْ فِي قَبُولِ الْكَرَامَةِ عَلَى ذَلِكَ.