কিতাবুস সুনান - ইমাম ইবনে মাজা' রহঃ (উর্দু)
اقامت نماز اور اس کا طریقہ
হাদীস নং: ১৩৭৫
اقامت نماز اور اس کا طریقہ
گھر میں نفل پڑھنا
عاصم بن عمرو کہتے ہیں کہ عراق کے کچھ لوگ عمر (رض) سے ملنے کے لیے چلے، جب آپ ان کے پاس پہنچے تو آپ نے ان سے پوچھا : تم لوگ کس جگہ سے تعلق رکھتے ہو ؟ ان لوگوں نے کہا : عراق سے، پوچھا : کیا اپنے امیر کی اجازت سے آئے ہو ؟ ان لوگوں نے کہا : ہاں، انہوں نے عمر (رض) سے گھر میں نماز پڑھنے کے متعلق پوچھا : تو آپ نے کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا : تو آپ ﷺ نے فرمایا : آدمی کا گھر میں نماز پڑھنا نور ہے، لہٰذا تم اپنے گھروں کو روشن کرو ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ١٠٤٧٦، ومصباح الزجاجة : ٤٨٢) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/١٤) (ضعیف) (اس کی سند میں عاصم بن عمرو ضعیف ہیں ) اس سند سے بھی عمر بن خطاب (رض) سے اسی جیسی روایت مرفوعاً آئی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ١٠٦٢١، ومصباح الزجاجة : ٤٨٢) (ضعیف) (اس کی سند میں بھی عاصم بن عمرو ضعیف ہیں ) وضاحت : ١ ؎: مصباح الزجاجۃ کے دونوں نسخوں میں یحییٰ بن أبی الحسین ہے، صحیح : محمد بن أبی الحسین ہے، ملاحظہ ہو : التقریب : ٥٨٢٦ و ٥٨٥٩ ) ۔
حدیث نمبر: 1375 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ طَارِقٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: خَرَجَ نَفَرٌ مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ إِلَى عُمَرَ، فَلَمَّا قَدِمُوا عَلَيْهِ قَالَ لَهُمْ: مِمَّنْ أَنْتُمْ؟، قَالُوا: مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ، قَالَ: فَبِإِذْنٍ جِئْتُمْ؟، قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: فَسَأَلُوهُ عَنْ صَلَاةِ الرَّجُلِ فِي بَيْتِهِ، فَقَالَ عُمَرُ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَمَّا صَلَاةُ الرَّجُلِ فِي بَيْتِهِ فَنُورٌ فَنَوِّرُوا بُيُوتَكُمْ. حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْحُسَيْنِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ.