কিতাবুস সুনান - ইমাম ইবনে মাজা' রহঃ (উর্দু)
اقامت نماز اور اس کا طریقہ
হাদীস নং: ১২০০
اقامت نماز اور اس کا طریقہ
سوری پر وتر پڑھنا
سعید بن یسار کہتے ہیں کہ میں عبداللہ بن عمر (رض) کے ساتھ تھا، میں پیچھے ہوگیا، اور نماز وتر ادا کی، انہوں نے پوچھا : تم پیچھے کیوں رہ گئے ؟ میں نے کہا : میں وتر پڑھ رہا تھا، انہوں نے کہا : کیا تمہارے لیے رسول اللہ ﷺ کی ذات گرامی میں اسوہ حسنہ نہیں ہے ؟ میں نے کہا : کیوں نہیں، کہا : رسول اللہ ﷺ اپنے اونٹ ہی پر وتر پڑھ لیتے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الوتر ٥ (٩٩٩) ، تقصیرالصلاة ٧ (١٠٩٥) ، ٨ (١٠٩٦) ، ١٢ (١١٠٥) ، صحیح مسلم/المسافرین ٤ (٧٠٠) ، سنن الترمذی/الصلاة ٢٢٨ (٤٧٢) ، سنن النسائی/قیام اللیل ٣١ (١٦٨٩) ، (تحفة الأشراف : ٧٠٨٥) ، وقد أخرجہ : موطا امام مالک/صلاة اللیل ٣ (١٥) مسند احمد (٢/٥٧، ١٣٨) ، سنن الدارمی/الصلاة ٢١٣ (١٦٣١) (صحیح )
حدیث نمبر: 1200 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ فَتَخَلَّفْتُ، فَأَوْتَرْتُ، فَقَالَ: مَا خَلَفَكَ؟، قُلْتُ: أَوْتَرْتُ، فَقَالَ: أَمَا لَكَ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ؟، قُلْتُ: بَلَى، قَالَ: فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَكَانَ يُوتِرُ عَلَى بَعِيرِهِ.