কিতাবুস সুনান - ইমাম ইবনে মাজা' রহঃ (উর্দু)
اقامت نماز اور اس کا طریقہ
হাদীস নং: ১১৯৭
اقامت نماز اور اس کا طریقہ
وتر کے بعد اور فجر کی سنتوں کے بعد مختصر وقت کے لئے لیٹ جانا
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کو جب بھی اخیر رات میں پاتی تو اپنے پاس سویا ہوا پاتی ١ ؎۔ وکیع نے کہا : ان کی مراد وتر کے بعد۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ١٧٧١٥) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/التہجد ٧ (١١٣٣) ، صحیح مسلم/المسافرین ١٧ (٧٤٢) ، سنن ابی داود/الصلاة ٣١٢ (١٣١٨) ، مسند احمد (٦/١٣٧، ١٦١، ٢٠٥، ٢٧٠) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: مطلب یہ ہے کہ وتر پڑھ کر آپ ﷺ لیٹ جاتے، اور تھوڑی دیر آرام فرماتے پھر فجر کی سنتوں کے لئے اٹھتے۔
حدیث نمبر: 1197 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ مِسْعَرٍ، وَسُفْيَانَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: مَا كُنْتُ أُلْفِي أَوْ أَلْقَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ إِلَّا وَهُوَ نَائِمٌ عِنْدِي، قَالَ وَكِيعٌ: تَعْنِي: بَعْدَ الْوِتْرِ.