কিতাবুস সুনান - ইমাম ইবনে মাজা' রহঃ (উর্দু)
اقامت نماز اور اس کا طریقہ
হাদীস নং: ১১৬৯
اقامت نماز اور اس کا طریقہ
وتر کا بیان
علی بن ابی طالب (رض) فرماتے ہیں کہ وتر واجب نہیں ہے، اور نہ وہ فرض نماز کی طرح ہے، بلکہ رسول اللہ ﷺ نے وتر پڑھی پھر فرمایا : اے قرآن والو ! وتر پڑھو، اس لیے کہ اللہ طاق ہے، طاق (عدد) کو پسند فرماتا ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الصلاة ٣٣٦ (١٤١٦) ، سنن الترمذی/الصلاة ٢١٦ (٤٥٣) ، سنن النسائی/قیام اللیل ٢٧ (١٦٧٦) ، (تحفة الأشراف : ١٠١٣٥) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/١٠٠، ١١٠، ١٤٣، ١٤٤، ١٤٨) ، سنن الدارمی/الصلاة ٢٠٩ (١٦٢١) (صحیح لغیرہ) (تراجع الألبانی : رقم : ٤٨٢ ) وضاحت : ١ ؎: قرآن والوں سے مراد قراء و حفاظ کی جماعت ہے، نہ کہ عامۃ الناس، اس کی تائید اگلی روایت میں ليس لک ولا لأصحابک کے جملہ سے ہو رہی ہے، جو عبداللہ بن مسعود (رض) نے ایک اعرابی سے کہا تھا، اس سے یہ معلوم ہوا کہ وتر واجب نہیں ہے، کیونکہ اگر واجب ہوتی تو حکم عام ہوتا۔
حدیث نمبر: 1169 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ السَّلُولِيِّ، قَالَ: قَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ: إِنَّ الْوِتْرَ لَيْسَ بِحَتْمٍ، وَلَا كَصَلَاتِكُمُ الْمَكْتُوبَةِ، وَلَكِنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْتَرَ، ثُمَّ قَالَ: يَا أَهْلَ الْقُرْآنِ، أَوْتِرُوا، فَإِنَّ اللَّهَ وِتْرٌ يُحِبُّ الْوِتْرَ.