কিতাবুস সুনান - ইমাম ইবনে মাজা' রহঃ (উর্দু)

اقامت نماز اور اس کا طریقہ

হাদীস নং: ১০৮২
اقامت نماز اور اس کا طریقہ
فرض جمعہ کے بارے میں
عبدالرحمٰن بن کعب بن مالک کہتے ہیں کہ جب میرے والد کی بینائی چلی گئی تو میں انہیں پکڑ کرلے جایا کرتا تھا، جب میں انہیں نماز جمعہ کے لیے لے کر نکلتا اور وہ اذان سنتے تو ابوامامہ اسعد بن زرارہ (رض) کے لیے استغفار اور دعا کرتے، میں ایک زمانہ تک ان سے یہی سنتا رہا، پھر ایک روز میں نے اپنے دل میں سوچا کہ اللہ کی قسم یہ تو بےوقوفی ہے کہ میں اتنے عرصے سے ہر جمعہ یہ بات سن رہا ہوں کہ جب بھی وہ جمعہ کی اذان سنتے ہیں تو ابوامامہ (رض) کے لیے استغفار اور دعا کرتے ہیں، اور ابھی تک میں نے ان سے اس کی وجہ نہیں پوچھی، چناچہ ایک روز معمول کے مطابق انہیں جمعہ کے لیے لے کر نکلا، جب انہوں نے اذان سنی تو حسب معمول (اسعد بن زرارہ (رض) کے لیے) مغفرت کی دعا کی تو میں نے ان سے کہا : ابا جان ! جب بھی آپ جمعہ کی اذان سنتے ہیں تو اسعد بن زرارہ (رض) کے لیے دعا فرماتے ہیں، آخر اس کی وجہ کیا ہے، تو انہوں نے کہا : میرے بیٹے ! اسعد ہی نے ہمیں سب سے پہلے نبی اکرم ﷺ کی مدینہ تشریف آوری سے پہلے قبیلہ بنی بیاضہ کے ہموار میدان نقیع الخضمات میں نماز جمعہ پڑھائی، میں نے سوال کیا : اس وقت آپ لوگوں کی تعداد کیا تھی ؟ کہا : ہم چالیس آدمی تھے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الصلاة ٢١٦ (١٠٦٩) ، (تحفة الأشراف : ١١١٤٩) (حسن ) وضاحت : ١ ؎: بظاہر یہاں ایک اشکال ہوتا ہے کہ جمعہ تو مدینہ میں فرض ہوا، پھر اسعد بن زرارہ (رض) نے نبی اکرم ﷺ کے تشریف لانے سے پہلے کیونکر جمعہ ادا کیا، اس کا جواب علماء نے یہ دیا ہے کہ جمعہ مکہ ہی میں فرض ہوگیا تھا، نبی اکرم ﷺ کافروں کے ڈر سے اس کو ادا نہ کرسکتے تھے، اور مدینہ میں اس کی فرضیت قرآن میں اتری، اس حدیث سے ان لوگوں کا رد ہوتا ہے جنہوں نے جمعہ کے لئے مسلمان حاکم کی شرط رکھی ہے، کیونکہ مدینہ طیبہ میں اس وقت کوئی مسلمان حاکم نہ تھا، اس کے باوجود اسعد بن زرارہ (رض) نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ جمعہ ادا کیا۔
حدیث نمبر: 1082 حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ أَبُو سَلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ أَبِي أُمَامَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كُنْتُ قَائِدَ أَبِي حِينَ ذَهَبَ بَصَرُهُ، ‏‏‏‏‏‏وَكُنْتُ إِذَا خَرَجْتُ بِهِ إِلَى الْجُمُعَةِ فَسَمِعَ الْأَذَانَ، ‏‏‏‏‏‏اسْتَغْفَرَ لِأَبِي أُمَامَةَ أَسْعَدَ بْنِ زُرَارَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَدَعَا لَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَمَكَثْتُ حِينًا أَسْمَعُ ذَلِكَ مِنْهُ ثُمَّ قُلْتُ فِي نَفْسِي:‏‏‏‏ وَاللَّهِ إِنَّ ذَا لَعَجْزٌ إِنِّي أَسْمَعُهُ كُلَّمَا سَمِعَ أَذَانَ الْجُمُعَةِ يَسْتَغْفِرُ لِأَبِي أُمَامَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَيُصَلِّي عَلَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا أَسْأَلُهُ عَنْ ذَلِكَ لِمَ هُوَ؟ فَخَرَجْتُ بِهِ كَمَا كُنْتُ أَخْرُجُ بِهِ إِلَى الْجُمُعَةِ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا سَمِعَ الْأَذَانَ اسْتَغْفَرَ كَمَا كَانَ يَفْعَلُ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ لَهُ:‏‏‏‏ يَا أَبَتَاهُ، ‏‏‏‏‏‏أَرَأَيْتَكَ صَلَاتَكَ عَلَى أَسْعَدَ بْنِ زُرَارَةَ كُلَّمَا سَمِعْتَ النِّدَاءَ بِالْجُمُعَةِ لِمَ هُوَ؟، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَيْ بُنَيَّ، ‏‏‏‏‏‏كَانَ أَوَّلَ مَنْ صَلَّى بِنَا صَلَاةَ الْجُمُعَةِ قَبْلَ مَقْدَمِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَكَّةَ فِي نَقِيعِ الْخَضَمَاتِ فِي هَزْمٍ مِنْ حَرَّةِ بَنِي بَيَاضَةَ، ‏‏‏‏‏‏قُلْتُ:‏‏‏‏ كَمْ كُنْتُمْ يَوْمَئِذٍ؟، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَرْبَعِينَ رَجُلًا.
tahqiqতাহকীক:তাহকীক চলমান
সুনানে ইবনে মাজা' (উর্দু) - হাদীস নং ১০৮২ | মুসলিম বাংলা