কিতাবুস সুনান - ইমাম ইবনে মাজা' রহঃ (উর্দু)
اقامت نماز اور اس کا طریقہ
হাদীস নং: ১০৪২
اقامت نماز اور اس کا طریقہ
نماز میں بالوں اور کپڑوں کو سمیٹنا
مدینہ کے ایک باشندہ ابوسعد کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے مولی ابورافع کو دیکھا کہ انہوں نے حسن بن علی (رض) کو اس حال میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا کہ وہ اپنے بالوں کا جوڑا باندھے ہوئے تھے، ابورافع (رض) نے اسے کھول دیا، یا اس (جوڑا باندھنے) سے منع کیا، اور کہا : رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا ہے کہ آدمی اپنے بالوں کو جوڑا باندھے ہوئے نماز پڑھے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ١٢٠٢٩) ، وقد أخرجہ : سنن ابی داود/الصلاة ٨٨ (٦٤٦) ، سنن الترمذی/الصلاة ١٦٥ (٣٨٤) ، مسند احمد (٦/٨، ٣٩١) ، سنن الدارمی/الصلاة ١٠٥ (١٤٢٠) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: کیونکہ سجدے میں اگر بال کھلے ہوں گے تو وہ بھی سجدہ کریں گے، اور جب جوڑا باندھ لیا جائے تو بال زمین پر نہ گریں گے، اس سے معلوم ہوا کہ اگر مرد کے بال لمبے ہوں تو وہ ان کا جوڑا باندھ سکتا ہے، لیکن نماز کے وقت کھول دے۔
حدیث نمبر: 1042 حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ شُعْبَةَ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي مُخَوَّلُ بْنُ رَاشِدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَعْدٍ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ يَقُولُ: رَأَيْتُ أَبَا رَافِعٍ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ وَهُوَ يُصَلِّي وَقَدْ عَقَصَ شَعْرَهُ، فَأَطْلَقَهُ، أَوْ نَهَى عَنْهُ، وَقَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُصَلِّيَ الرَّجُلُ وَهُوَ عَاقِصٌ شَعَرَهُ.