কিতাবুস সুনান - ইমাম ইবনে মাজা' রহঃ (উর্দু)
اقامت نماز اور اس کا طریقہ
হাদীস নং: ১০১৭
اقامت نماز اور اس کا طریقہ
نمازی کو سلام کیا جائے تو وہ کیسے جواب دے ؟
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مسجد قباء میں آ کر نماز پڑھ رہے تھے، اتنے میں انصار کے کچھ لوگ آئے اور آپ کو سلام کرنے لگے، تو میں نے صہیب (رض) سے پوچھا جو آپ کے ساتھ تھے کہ رسول اللہ ﷺ ان کے سلام کا جواب کیسے دیا تھا ؟ انہوں نے کہا : آپ ﷺ ہاتھ کے اشارے سے جواب دے رہے تھے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/السہو ٦ (١١٨٨) ، (تحفة الأشراف : ٤٩٦٧) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ دوران نماز سلام کا جواب زبان سے نہ دے ورنہ نماز فاسد ہوجائے گی، البتہ انگلی یا ہاتھ کے اشارے سے جواب دے سکتا ہے، اور اکثر علماء کا یہی قول ہے۔
حدیث نمبر: 1017 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الطَّنَافِسِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: أَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَسْجِدَ قُبَاءَ يُصَلِّي فِيهِ، فَجَاءَتْ رِجَالٌ مِنْ الْأَنْصَارِ يُسَلِّمُونَ عَلَيْهِ، فَسَأَلْتُصُهَيْبًا وَكَانَ مَعَهُ: كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرُدُّ عَلَيْهِمْ؟ قَالَ: كَانَ يُشِيرُ بِيَدِهِ.