কিতাবুস সুনান - ইমাম ইবনে মাজা' রহঃ (উর্দু)
اقامت نماز اور اس کا طریقہ
হাদীস নং: ১০০৮
اقامت نماز اور اس کا طریقہ
قبلہ کا بیان
جابر (رض) کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ بیت اللہ (خانہ کعبہ) کے طواف سے فارغ ہوگئے تو مقام ابراہیم پر آئے، عمر (رض) کہنے لگے : اللہ کے رسول ! یہ ہمارے باپ ابراہیم (علیہ السلام) کا مقام ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : واتخذوا من مقام إبراهيم مصلى، یعنی : (مقام ابراہیم کو نماز کی جگہ بناؤ) ۔ ولید کہتے ہیں کہ میں نے مالک سے کہا : کیا یہ انہوں نے اسی طرح (امر کے صیغہ کے ساتھ) واتخذوا (خاء کے زیر کسرے کے ساتھ) پڑھا ؟ تو انہوں نے کہا : جی ہاں۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الحروف ١ (٣٩٦٩) ، سنن الترمذی/الحج ٣٣ (٨٥٦) ، ٣٨ (٨٦٢) ، سنن النسائی/المناسک ١٦٣ (٢٩٦٤) ، ١٦٤ (٢٩٦٦) ، ١٧٢ (٢٩٧٧) ، (تحفة الأشراف : ٢٥٩٥) (یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے : ٢٩٦٠) (ضعیف) (عمر (رض) سے آیت کا پڑھنا منکر ہے، جب کہ دوسری کتب حدیث کی اسی روایت میں یہ قراءت رسول اکرم ﷺ سے ہے، اس لئے یہ صحیح ہے، اور ابن ماجہ کی روایت منکر ہے، یہ حدیث مکرر ہے، کما تقدم، پہلی جگہ شیخ البانی صاحب نے حدیث کو منکر کہا، اور اگلی حدیث ( ١٠٠٩ ) کو معروف بتایا، اور ( ٢٩٦٠ ) میں نفس سند و متن کو صحیح کہا، اور مسلم کا ذکر کرتے ہوئے حجة النبی ﷺ کا حوالہ دیا، ملاحظہ ہو : ضعیف ابن ماجہ : ١٩٢ ، و صحیح ابن ماجہ : ٢٤١٣ ، میرے خیال میں نکارت کی وجہ عمر (رض) کا آیت کا پڑھنا ہے، جب کہ سنن ابی داود و ترمذی اور نسائی (کبری) میں اس حدیث میں آیت کی تلاوت رسول اکرم ﷺ نے ہی فرمائی ہے، اور حج کی جابر (رض) کی احادیث میں آیت کریمہ رسول اکرم ﷺ نے تلاوت فرمائی )
حدیث نمبر: 1008 حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عُثْمَانَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْأَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّهُ قَالَ: لَمَّا فَرَغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ طَوَافِ الْبَيْتِ أَتَى مَقَامَ إِبْرَاهِيمَ، فَقَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذَا مَقَامُ أَبِينَا إِبْرَاهِيمَ الَّذِي قَالَ اللَّهُ: وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى سورة البقرة آية 125، قَالَ الْوَلِيدُ: فَقُلْتُ لِمَالِكٍ: أَهَكَذَا قَرَأَ: وَاتَّخِذُوا سورة البقرة آية 125؟ قَالَ: نَعَمْ.