কিতাবুস সুনান - ইমাম ইবনে মাজা' রহঃ (উর্দু)
پاکی کا بیان
হাদীস নং: ৫০৭
پاکی کا بیان
بوسہ کی وجہ سے وضو کرنا
عبداللہ بن عباس (رض) سے روایت ہے کہ وہ عمر (رض) کے ہمراہ ابی بن کعب (رض) کے ہاں گئے۔ وہ (گھر سے) باہر تشریف لائے۔ (بات چیت کے دوران ان میں ابی نے) فرمایا : مجھے مذی آگئی تھی تو میں نے عضو خاص کو دھو کر وضو کیا ہے (اس لیے باہر آنے میں دیر ہوئی) عمر (رض) نے فرمایا : کیا یہ (وضو کرلینا) کافی ہوتا ہے ؟ انہوں نے کہا : جی ہاں ! فرمایا : کیا آپ نے یہ مسئلہ رسول اللہ ﷺ سے (خود) سنا ہے ؟ انہوں نے کہا : جی ہاں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ٥١، ومصباح الزجاجة : ٢١٠) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٣٢٠، ٥/١١٧) (ضعیف الإسناد) (سند ابوحبیب کی جہالت کی وجہ سے ضعیف ہے ) وضاحت : ١ ؎ : مذی اور اسی طرح پیشاب اور پاخانہ کے راستہ سے جو چیز بھی نکلے اس سے وضو ٹوٹنے میں کسی کا اختلاف نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 507 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ شَيْبَةَ، عَنْ أَبِي حَبِيبِ بْنِ يَعْلَى بْنِ مُنْيَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ أَتَى أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ وَمَعَهُ عُمَرُ فَخَرَجَ عَلَيْهِمَا، فَقَالَ: إِنِّي وَجَدْتُ مَذْيًا فَغَسَلْتُ ذَكَرِي وَتَوَضَّأْتُ، فَقَالَ عُمَرُ: أَوَ يُجْزِئُ ذَلِكَ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: أَسَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ.