আল জামিউস সহীহ- ইমাম বুখারী রহঃ (উর্দু)
مرتدوں اور دشمنوں سے توبہ کرانا
হাদীস নং: ৬৯২০
مرتدوں اور دشمنوں سے توبہ کرانا
اللہ تعالیٰ کا قول کہ شرک بہت بڑاظلم ہے اور اگر تم نے شرک کیا تو تمہارا عمل ضائع ہوجائے گا اور تم گھاٹا پانے والوں میں سے ہوجاؤ گے۔
ہم سے محمد بن حسین بن ابراہیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبیداللہ بن موسیٰ کوفی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو شیبان نحوی نے خبر دی، انہوں نے فراش بن یحییٰ سے، انہوں نے عامر شعبی سے، انہوں نے عبداللہ بن عمرو بن عاص (رض) سے، انہوں نے کہا کہ ایک گنوار (نام نامعلوم) نبی کریم ﷺ کے پاس آیا کہنے لگا : یا رسول اللہ ! بڑے بڑے گناہ کون سے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کے ساتھ شرک کرنا۔ اس نے پوچھا پھر کون سا گناہ ؟ آپ نے فرمایا ماں باپ کو ستانا۔ پوچھا : پھر کون سا گناہ ؟ آپ نے فرمایا غموس. قسم کھانا۔ عبداللہ بن عمرو (رض) نے کہا میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! غموس. قسم کیا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا جان بوجھ کر کسی مسلمان کا مال مار لینے کے لیے جھوٹی قسم کھانا۔
حدیث نمبر: 6920 حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ فِرَاسٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا الْكَبَائِرُ ؟، قَالَ: الْإِشْرَاكُ بِاللَّهِ، قَالَ: ثُمَّ مَاذَا ؟، قَالَ: ثُمَّ عُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ، قَالَ: ثُمَّ مَاذَا ؟، قَالَ: الْيَمِينُ الْغَمُوسُ، قُلْتُ: وَمَا الْيَمِينُ الْغَمُوسُ ؟، قَالَ: الَّذِي يَقْتَطِعُ مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ هُوَ فِيهَا كَاذِبٌ.