আল জামিউস সহীহ- ইমাম বুখারী রহঃ (উর্দু)
غزوات کا بیان
হাদীস নং: ৪০৭৭
غزوات کا بیان
باب: (اللہ تعالیٰ کا فرمان) ”وہ لوگ جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی آواز کو عملاً قبول کیا“ (یعنی ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعمیل کے لیے فوراً تیار ہو گئے)۔
ہم سے محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے ابومعاویہ نے بیان کیا، ان سے ہشام نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ (رض) نے کہ (آیت) الذين استجابوا لله والرسول من بعد ما أصابهم القرح للذين أحسنوا منهم واتقوا أجر عظيم وہ لوگ جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی آواز پر لبیک کہا۔ انہوں نے عروہ سے اس آیت کے متعلق کہا، میرے بھانجے ! تمہارے والد زبیر (رض) اور (نانا) ابوبکر (رض) بھی انہیں میں سے تھے۔ احد کی لڑائی میں رسول اللہ ﷺ کو جو کچھ تکلیف پہنچنی تھی جب وہ پہنچی اور مشرکین واپس جانے لگے تو نبی کریم ﷺ کو اس کا خطرہ ہوا کہ کہیں وہ پھر لوٹ کر حملہ نہ کریں۔ اس لیے آپ ﷺ نے فرمایا کہ ان کا پیچھا کرنے کون کون جائیں گے۔ اسی وقت ستر صحابہ رضی اللہ عنہم تیار ہوگئے۔ راوی نے بیان کیا کہ ابوبکر (رض) اور زبیر (رض) بھی انہیں میں سے تھے۔
حدیث نمبر: 4077 حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: الَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِلَّهِ وَالرَّسُولِ مِنْ بَعْدِ مَا أَصَابَهُمُ الْقَرْحُ لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا مِنْهُمْ وَاتَّقَوْا أَجْرٌ عَظِيمٌ قَالَتْ لِعُرْوَةَ يَا ابْنَ أُخْتِي كَانَ أَبُوكَ مِنْهُمُ الزُّبَيْرُ وَأَبُو بَكْرٍ، لَمَّا أَصَابَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَصَابَ يَوْمَ أُحُدٍ، وَانْصَرَفَ عَنْهُ الْمُشْرِكُونَ خَافَ أَنْ يَرْجِعُوا قَالَ: مَنْ يَذْهَبُ فِي إِثْرِهِمْ. فَانْتَدَبَ مِنْهُمْ سَبْعُونَ رَجُلاً، قَالَ: كَانَ فِيهِمْ أَبُو بَكْرٍ وَالزُّبَيْرُ.