কিতাবুস সুনান - ইমাম আবু দাউদ রহঃ (উর্দু)
جہاد کا بیان
হাদীস নং: ২৭৭২
جہاد کا بیان
خوشخبری دینے کے لئے کسی کو بھیجنا
جریر (رض) کہتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کیا تم مجھے ذو الخلصہ ١ ؎ سے آرام نہیں پہنچاؤ گے ؟ ٢ ؎، یہ سن کر جریر (رض) وہاں آئے اور اسے جلا دیا پھر انہوں نے قبیلہ احمس کے ایک آدمی کو جس کی کنیت ابوارطاۃ تھی رسول اللہ ﷺ کے پاس بھیجا کہ وہ آپ کو اس کی خوشخبری دیدے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الجھاد ١٥٤ (٣٠٢٠) ، صحیح مسلم/فضائل الصحابة ٢٩ (٢٤٧٦) ، (تحفة الأشراف : ٣٢٢٥) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٣٦٠، ٣٦٢، ٣٦٥) (صحیح) بأتم منہ ۔ وضاحت : ١ ؎ : ایک گھر تھا جس میں دوس اور خثعم کے بت رہتے تھے، اور بعضوں نے کہا خود بت کا نام تھا۔ ٢ ؎ : تم مجھے ذوالخلصہ سے آرام نہیں پہنچاؤ گے کا مطلب ہے کہ کیا تم اسے برباد نہیں کروگے کہ خس کم جہاں پاک۔
حدیث نمبر: 2772 حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ، حَدَّثَنَا عِيسَى، عَنْ إِسْمَاعِيل، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَلَا تُرِيحُنِي مِنْ ذِي الْخَلَصَةِ فَأَتَاهَا فَحَرَّقَهَا، ثُمَّ بَعَثَ رَجُلًا مِنْ أَحْمَسَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُبَشِّرُهُ يُكْنَى أَبَا أَرْطَاةَ.