কিতাবুস সুনান - ইমাম আবু দাউদ রহঃ (উর্দু)
جہاد کا بیان
হাদীস নং: ২৪৯২
جہاد کا بیان
جہاد کے لئے سمندر کا سفر
ام حرام رمیصاء ١ ؎ (رض) کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ سوئے پھر بیدار ہوئے، اور وہ اپنا سر دھو رہی تھیں تو آپ ﷺ ہنستے ہوئے بیدار ہوئے، انہوں نے کہا : اللہ کے رسول ! کیا آپ میرے بال دیکھ کر ہنس رہے ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : نہیں ، پھر انہوں نے یہی حدیث کچھ کمی بیشی کے ساتھ بیان کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں : رمیصاء ام سلیم کی رضاعی بہن تھیں ٢ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : (٢٤٩٠) ، (تحفة الأشراف : ١٨٣٠٧) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : ام سلیم (رض) ام حرام بنت ملحان (رض) کی بہن ہیں، سند میں اخت ام سلیم سے مراد ام حرام بنت ملحان (رض) ہی ہیں، ام حرام (رض) کو رمیصاء کہا جاتا تھا، اور امّ سلیم (رض) کو غمیصاء۔ ٢ ؎ : ابوداود کا یہ قول صحیح نہیں ہے، وہ رضاعی نہیں بلکہ نسبی اور حقیقی بہن تھیں۔
حدیث نمبر: 2492 حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أُخْتِ أُمِّ سُلَيْمٍ الرُّمَيْصَاءِ، قَالَتْ: نَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَيْقَظَ وَكَانَتْ تَغْسِلُ رَأْسَهَا فَاسْتَيْقَظَ وَهُوَ يَضْحَكُ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَضْحَكُ مِنْ رَأْسِي ؟ قَالَ: لَا، وَسَاقَ هَذَا الْخَبَرَ يَزِيدُ وَيَنْقُصُ. قَالَ أَبُو دَاوُد: الرُّمَيْصَاءُ أُخْتُ أُمِّ سُلَيْمٍ مِنَ الرَّضَاعَةِ.