কিতাবুস সুনান - ইমাম আবু দাউদ রহঃ (উর্দু)
طلاق کا بیان
হাদীস নং: ২২৯৯
طلاق کا بیان
شوہر کی وفات پر عورت سوگ منائے
زینب (رض) کہتی ہیں : میں نے اپنی والدہ ام سلمہ (رض) کو کہتے ہوئے سنا : ایک عورت نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا : اللہ کے رسول ! میری بیٹی کے شوہر کی وفات ہوگئی ہے اور اس کی آنکھیں دکھ رہی ہیں، کیا ہم اسے سرمہ لگا دیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : نہیں ، اس نے دو بار یا تین بار پوچھا، آپ ﷺ نے ہر بار فرمایا : نہیں ، پھر فرمایا : تم چار مہینے دس دن صبر نہیں کرسکتی، حالانکہ زمانہ جاہلیت میں جب تم میں سے کسی عورت کا شوہر مرجاتا تھا تو ایک سال پورے ہونے پر اسے مینگنی پھینکنی پڑتی تھی ۔ حمید راوی کہتے ہیں میں نے زینب (رض) سے پوچھا : مینگنی پھینکنے سے کیا مراد ہے ؟ تو انہوں نے بتایا کہ جاہلیت کے زمانہ میں جب کسی عورت کا شوہر مرجاتا تو وہ ایک معمولی سی جھونپڑی میں رہائش اختیار کرتی، پھٹے پرانے اور میلے کچیلے کپڑے پہنتی، نہ خوشبو استعمال کرسکتی اور نہ ہی کوئی زینت و آرائش کرسکتی تھی، جب سال پورا ہوجاتا تو اسے گدھا یا کوئی پرندہ یا بکری دی جاتی جسے وہ اپنے بدن سے رگڑتی، وہ جانور کم ہی زندہ رہ پاتا، پھر اس کو مینگنی دی جاتی جسے وہ سر پر گھما کر اپنے پیچھے پھینک دیتی، اس کے بعد وہ عدت سے باہر آتی اور زیب و زینت کرتی اور خوشبو استعمال کرتی۔ ابوداؤد کہتے ہیں :حفش چھوٹے گھر (تنگ کوٹھری) کو کہتے ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الجنائز ٣٠ (١٢٨١) ، والطلاق ٤٦ (٥٣٣٦) ، ٤٧ (٥٣٣٨) ، ٥٠ (٥٣٤٥) ، صحیح مسلم/الطلاق ٩ (١٤٨٨) ، سنن النسائی/الطلاق ٥٥ (٣٥٣٠) ، ٥٩ (٣٥٥٧) ، ٦٣ (٣٥٦٣) ، ٦٧ (٣٥٦٨) ، سنن الترمذی/الطلاق ١٨ (١١٩٦) ، سنن ابن ماجہ/الطلاق ٣٤ (٢٠٨٤) ، (تحفة الأشراف : ١٥٨٧٦، ١٨٢٥٩) ، وقد أخرجہ : موطا امام مالک/الطلاق ٣٥ (١٠١) ، مسند احمد (٦/٣٢٥، ٣٢٦) ، سنن الدارمی/الطلاق ١٢ (٢٣٣٠) (صحیح )