কিতাবুস সুনান - ইমাম আবু দাউদ রহঃ (উর্দু)
طلاق کا بیان
হাদীস নং: ২১৯৯
طلاق کا بیان
ہنسی مذاق میں طلاق دینا
طاؤس سے روایت ہے کہ ایک صاحب جنہیں ابوصہبا کہا جاتا تھا ابن عباس (رض) سے کثرت سے سوال کرتے تھے انہوں نے پوچھا : کیا آپ کو معلوم ہے کہ جب آدمی اپنی بیوی کو دخول سے پہلے ہی تین طلاق دے دیتا، تو رسول اللہ ﷺ اور ابوبکر (رض) کے زمانے نیز عمر (رض) کے ابتدائی دور خلافت میں اسے ایک طلاق مانا جاتا تھا ؟ ابن عباس (رض) نے جواب دیا : ہاں کیوں نہیں ؟ جب آدمی اپنی بیوی کو دخول سے پہلے ہی تین طلاق دے دیتا تھا، تو اسے رسول اللہ ﷺ اور ابوبکر (رض) کے زمانے میں نیز عمر (رض) کے ابتدائی دور خلافت میں ایک ہی طلاق مانا جاتا تھا، لیکن جب عمر (رض) نے دیکھا کہ لوگ بہت زیادہ ایسا کرنے لگے ہیں تو کہا کہ میں انہیں تین ہی نافذ کروں گا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٥٧٦٣) (ضعیف) (اس سند میں غیر واحد مبہم رواة ہیں ، مگر اس میں غیرمدخول بہا کا لفظ ہی منکر ہے باقی باتیں اگلی روایت سے ثابت ہیں ) وضاحت : ١ ؎ : مگر عمر (رض) کا یہ حکم واجب العمل نہیں ہوسکتا ، کیونکہ حدیث صحیح سے رسول اکرم ﷺ کے عہد مبارک میں تین طلاق کا ایک طلاق ہونا ثابت ہے۔
حدیث نمبر: 2199 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَرْوَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ غَيْرِ وَاحِدٍ، عَنْطَاوُسٍ، أَنَّ رَجُلًا يُقَالُ لَهُ: أَبُو الصَّهْبَاءِ، كَانَ كَثِيرَ السُّؤَالِ لِابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ الرَّجُلَ كَانَ إِذَا طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا، جَعَلُوهَا وَاحِدَةً عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَ أَبِي بَكْرٍ وَصَدْرًا مِنْ إِمَارَةِ عُمَرَ ؟قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: بَلَى، كَانَ الرَّجُلُ إِذَا طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا، جَعَلُوهَا وَاحِدَةً عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَ أَبِي بَكْرٍ وَصَدْرًا مِنْ إِمَارَةِ عُمَرَ، فَلَمَّا رَأَى النَّاسَ قَدْ تَتَابَعُوا فِيهَا، قَالَ: أَجِيزُوهُنَّ عَلَيْهِمْ.