কিতাবুস সুনান - ইমাম আবু দাউদ রহঃ (উর্দু)
کتاب الزکوٰة
হাদীস নং: ১৬৩৯
کتاب الزکوٰة
سوال کرنا کب جائز ہے؟
سمرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : سوال کرنا آدمی کا اپنے چہرے کو زخم لگانا ہے تو جس کا جی چاہے اپنے چہرے پر (نشان زخم) باقی رکھے اور جس کا جی چاہے اسے (مانگنا) ترک کر دے، سوائے اس کے کہ آدمی حاکم سے مانگے یا کسی ایسے مسئلہ میں مانگے جس میں کوئی اور چارہ کار نہ ہو ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الزکاة ٣٨ (٦٨١) ، سنن النسائی/الزکاة ٩٢ (٢٦٠٠) ، ( تحفة الأشراف : ٤٦١٤) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٥/١٠، ١٩، ٢٢) (صحیح )
حدیث نمبر: 1639 حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ النَّمَرِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ عُقْبَةَ الْفَزَارِيِّ، عَنْ سَمُرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: الْمَسَائِلُ كُدُوحٌ يَكْدَحُ بِهَا الرَّجُلُ وَجْهَهُ فَمَنْ شَاءَ أَبْقَى عَلَى وَجْهِهِ وَمَنْ شَاءَ تَرَكَ، إِلَّا أَنْ يَسْأَلَ الرَّجُلُ ذَا سُلْطَانٍ أَوْ فِي أَمْرٍ لَا يَجِدُ مِنْهُ بُدًّا.