কিতাবুস সুনান - ইমাম আবু দাউদ রহঃ (উর্দু)
کتاب الزکوٰة
হাদীস নং: ১৫৬৫
کتاب الزکوٰة
کنز کی تعریف اور زیورات پر زکوة کا بیان
حدیث نمبر : 1565 عبداللہ بن شداد بن الہاد (رض) کہتے ہیں کہ ہم لوگ ام المؤمنین عائشہ (رض) کے پاس گئے، وہ کہنے لگیں : میرے پاس رسول اللہ ﷺ آئے، آپ نے میرے ہاتھ میں چاندی کی کچھ انگوٹھیاں دیکھیں اور فرمایا : عائشہ ! یہ کیا ہے ؟ میں نے عرض کیا : میں نے انہیں اس لیے بنوایا ہے کہ میں آپ کے لیے بناؤ سنگار کروں، آپ ﷺ نے پوچھا : کیا تم ان کی زکاۃ ادا کرتی ہو ؟ میں نے کہا : نہیں، یا جو کچھ اللہ کو منظور تھا کہا، آپ ﷺ نے فرمایا : یہ تمہیں جہنم میں لے جانے کے لیے کافی ہیں ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٦٢٠٠) (صحیح ) اس سند سے عمر بن یعلیٰ (عمر بن عبداللہ بن یعلیٰ بن مرہ) سے اسی انگوٹھی والی حدیث جیسی حدیث مروی ہے سفیان سے پوچھا گیا : آپ اس کی زکاۃ کیسے دیں گے ؟ انہوں نے کہا : تم اسے دوسرے میں ملا لو۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٩١٥٧) (ضعیف) (عمر بن یعلی ضعیف راوی ہیں )
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ طَارِقٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ أَخْبَرَهُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ، أَنَّهُ قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَأَى فِي يَدَيَّ فَتَخَاتٍ مِنْ وَرِقٍ، فَقَالَ: مَا هَذَا يَا عَائِشَةُ ؟فَقُلْتُ: صَنَعْتُهُنَّ أَتَزَيَّنُ لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: أَتُؤَدِّينَ زَكَاتَهُنَّ ؟قُلْتُ: لَا، أَوْ مَا شَاءَ اللَّهُ، قَالَ: هُوَ حَسْبُكِ مِنَ النَّارِ. حدیث نمبر: 1566 حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عُمَرَ بْنِ يَعْلَى، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ نَحْوَ حَدِيثِ الْخَاتَمِ، قِيلَ لِسُفْيَانَ: كَيْفَ تُزَكِّيهِ ؟ قَالَ: تَضُمُّهُ إِلَى غَيْرِهِ.