কিতাবুস সুনান - ইমাম আবু দাউদ রহঃ (উর্দু)
استغفار کا بیان
হাদীস নং: ১৫২৬
استغفار کا بیان
استغفار کا بیان
ابوموسی اشعری (رض) کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھا، جب لوگ مدینہ کے قریب پہنچے تو لوگوں نے تکبیر کہی اور اپنی آوازیں بلند کیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : لوگو ! تم کسی بہرے یا غائب کو آواز نہیں دے رہے ہو، بلکہ جسے تم پکار رہے ہو وہ تمہارے اور تمہاری سواریوں کی گردنوں کے درمیان ہے ١ ؎، پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اے ابوموسیٰ ! کیا میں تمہیں جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ نہ بتاؤں ؟ ، میں نے عرض کیا : وہ کیا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : وہ لا حول ولا قوة إلا بالله ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الجہاد ١٣١ (٢٩٩٢) ، والمغازي ٣٨ (٤٢٠٥) ، والدعوات ٥٠ (٦٣٨٤) ، ٦٦ (٦٤٠٩) ، و القدر ٧ (٦٦١٠) ، والتوحید ٩ (٧٣٨٦) ، صحیح مسلم/الذکر والدعاء ١٣ (٢٧٠٤) ، سنن الترمذی/الدعوات ٣ (٣٣٧٤) ، ٥٨ (٣٤٦١) ، سنن النسائی/الیوم واللیلة (٥٣٦، ٥٣٧، ٥٣٨) ، سنن ابن ماجہ/الأدب ٥٩ (٣٨٢٤) ، (تحفة الأشراف : ٩٠١٧) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٣٩٤، ٣٩٩، ٤٠٠، ٤٠٢، ٤٠٧، ٤١٧، ٤١٨) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : یہ اللہ رب العزت کے علم و قدرت اور سمع کی رو سے ہے، رہی اس کی ذات تو وہ عرش کے اوپر مستوی اور بلند و بالا ہے، نیز اس حدیث سے ذکر سری کی ذکر جہری پر فضیلت ثابت ہوتی ہے۔
حدیث نمبر: 1526 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ، وَعَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، وَسَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، أَنَّأَبَا مُوسَى الْأَشْعَرِيَّ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَلَمَّا دَنَوْا مِنْ الْمَدِينَةِ كَبَّرَ النَّاسُ وَرَفَعُوا أَصْوَاتَهُمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّكُمْ لَا تَدْعُونَ أَصَمَّ وَلَا غَائِبًا، إِنَّ الَّذِي تَدْعُونَهُ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ أَعْنَاقِ رِكَابِكُمْ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا أَبَا مُوسَى، أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى كَنْزٍ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ ؟فَقُلْتُ: وَمَا هُوَ ؟ قَالَ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ.