কিতাবুস সুনান - ইমাম আবু দাউদ রহঃ (উর্দু)
پاکی کا بیان
হাদীস নং: ১৮৮
پاکی کا بیان
آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے سے وضو لازم نہ ہونے کا بیان
مغیرہ بن شعبہ (رض) کہتے ہیں کہ میں ایک رات نبی اکرم ﷺ کا مہمان ہوا تو آپ نے بکری کی ران بھوننے کا حکم دیا، وہ بھونی گئی، آپ ﷺ نے چھری لی، اور میرے لیے اس میں سے گوشت کاٹنے لگے، اتنے میں بلال (رض) آئے، اور آپ ﷺ کو نماز کی خبر دی، تو آپ نے چھری رکھ دی، اور فرمایا : اسے کیا ہوگیا ؟ اس کے دونوں ہاتھ خاک آلود ہوں ؟ ، اور اٹھ کر نماز پڑھنے کھڑے ہوئے۔ انباری کی روایت میں اتنا اضافہ ہے : میری موچھیں بڑھ گئی تھیں، تو آپ ﷺ نے مونچھوں کے تلے ایک مسواک رکھ کر ان کو کتر دیا ، یا فرمایا : میں ایک مسواک رکھ کر تمہارے یہ بال کتر دوں گا ۔ تخریج دارالدعوہ : * تخريج : تفرد بہ أبو داود، سنن الترمذی/الشمائل (١٦٧) ، (تحفة الأشراف : ١١٥٣٠) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٢٥٢) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : یعنی اسے اتنی جلدی پڑی تھی کہ میرے کھانے سے فارغ ہوجانے کا انتظار تک نہیں کیا۔
حدیث نمبر: 188 حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ الْمَعْنَى، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ أَبِي صَخْرَةَ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ: ضِفْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ، فَأَمَرَ بِجَنْبٍ فَشُوِيَ، وَأَخَذَ الشَّفْرَةَ فَجَعَلَ يَحُزُّ لِي بِهَا مِنْهُ، قَالَ: فَجَاءَ بِلَالٌ فَآذَنَهُ بِالصَّلَاةِ، قَالَ: فَأَلْقَى الشَّفْرَةَ، وَقَالَ: مَا لَهُ تَرِبَتْ يَدَاهُ ؟ وَقَامَ يُصَلِّ، زَادَ الْأَنْبَارِيُّ: وَكَانَ شَارِبِي وَفَى فَقَصَّهُ لِي عَلَى سِوَاكٍ، أَوْ قَالَ: أَقُصُّهُ لَكَ عَلَى سِوَاكٍ.