আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)
سیر کا بیان
হাদীস নং: ১৭৮৭৮
سیر کا بیان
حکمران جن لوگوں سے کسی بھی حال میں نہیں لڑ سکتا
(١٧٨٧٢) ابو سعید خدری (رض) فرماتے ہیں : کچھ منافقین نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دور میں اس طرح کرتے کہ جب آپ غزوہ کے لیے نکلتے تو پیچھے رہ جاتے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مخالفت میں بیٹھ کر خوش ہوتے تھے اور جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) واپس آتے تو یہ لوگ عذر کرتے اور قسم اٹھاتے اور چاہتے کہ اللہ کے رسول ان کی تعریف کریں ایسے کام پر جو انھوں نے نہیں کیا۔ تو ان کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی : { لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ یَفْرَحُوْنَ بِمَآ اَتَوْا وَّ یُحِبُّوْنَ اَنْ یُّحْمَدُوْا بِمَا لَمْ یَفْعَلُوْا فَلَا تَحْسَبَنَّھُمْ بِمَفَازَۃٍ مِّنَ الْعَذَابِ } [آل عمران ١٨٨] ” ان لوگوں کو ہرگز خیال نہ کر جو ان (کاموں) پر خوش ہوتے ہیں جو انھوں نے کیے اور پسند کرتے ہیں کہ ان کی تعریف ان (کاموں) پر کی جائے جو انھوں نے نہیں کیے تو انھیں عذاب سے بچ نکلنے میں کامیاب ہرگز خیال نہ کر اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے راز کھول دیے اور ان کا جاسوسوں کو خبریں دینا بھی ظاہر کردیا اور ان کا یہ چاہنا کہ آپ کے ساتھیوں کو جھوٹ کا سہارا لے کر فتنہ میں ڈال دیں اور بری خبریں پھیلا کر اور آپ کے ساتھیوں کو آپ کی مدد سے ہاتھ کھینچنے کی ترغیب دلا کر اور اللہ نے خبر دی کہ وہ ان کا اس نیت کے ساتھ جانا ناپسند کرتا ہے یہ اس کی دلیل ہے کہ اللہ نے حکم دیا ہے کہ جس کے بارے میں پتہ چل جائے تو ان کو مسلمانوں کے غزوہ میں شریک نہ کیا جائے کیونکہ وہ خود مسلمانوں کے لیے نقصان کا باعث ہیں۔ پھر اس کی مزید تاکید اس قول سے ہوتی ہے { فَرِحَ الْمُخَلَّفُوْنَ بِمَقْعَدِھِمْ خِلٰفَ رَسُوْلِ اللّٰہِ } [التوبۃ ٨١]” پیچھے رہنے والے اللہ کے رسول کی مخالفت میں بیٹھ کر خوش ہوتے ہیں۔ انھوں نے یہاں تک پڑھا : { فَاقْعُدُوْا مَعَ الْخٰلِفِیْنَ ۔ } [التوبۃ ٨٣]” پیچھے رہنے والوں کے ساتھ بیٹھے رہو۔ “
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے راز کھول دیے اور ان کا جاسوسوں کو خبریں دینا بھی ظاہر کردیا اور ان کا یہ چاہنا کہ آپ کے ساتھیوں کو جھوٹ کا سہارا لے کر فتنہ میں ڈال دیں اور بری خبریں پھیلا کر اور آپ کے ساتھیوں کو آپ کی مدد سے ہاتھ کھینچنے کی ترغیب دلا کر اور اللہ نے خبر دی کہ وہ ان کا اس نیت کے ساتھ جانا ناپسند کرتا ہے یہ اس کی دلیل ہے کہ اللہ نے حکم دیا ہے کہ جس کے بارے میں پتہ چل جائے تو ان کو مسلمانوں کے غزوہ میں شریک نہ کیا جائے کیونکہ وہ خود مسلمانوں کے لیے نقصان کا باعث ہیں۔ پھر اس کی مزید تاکید اس قول سے ہوتی ہے { فَرِحَ الْمُخَلَّفُوْنَ بِمَقْعَدِھِمْ خِلٰفَ رَسُوْلِ اللّٰہِ } [التوبۃ ٨١]” پیچھے رہنے والے اللہ کے رسول کی مخالفت میں بیٹھ کر خوش ہوتے ہیں۔ انھوں نے یہاں تک پڑھا : { فَاقْعُدُوْا مَعَ الْخٰلِفِیْنَ ۔ } [التوبۃ ٨٣]” پیچھے رہنے والوں کے ساتھ بیٹھے رہو۔ “
(١٧٨٧٢) أَخْبَرَنَا أَبُوعَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُوعَبْدِاللَّہِ : الْحُسَیْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَیُّوبَ الطُّوسِیُّ حَدَّثَنَا أَبُوحَاتِمٍ الرَّازِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی مَرْیَمَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ أَخْبَرَنِی زَیْدُ بْنُ أَسْلَمَ عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّ رِجَالاً مِنَ الْمُنَافِقِینَ فِی عَہْدِ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - کَانَ إِذَا خَرَجَ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - إِلَی الْغَزْوِ تَخَلَّفُوا عَنْہُ وَفَرِحُوا بِمَقْعَدِہِمْ خِلاَفَ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَإِذَا قَدِمَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - اعْتَذَرُوا إِلَیْہِ وَحَلَفُوا وَأَحَبُّوا أَنْ یُحْمَدُوا بِمَا لَمْ یَفْعَلُوا فَنَزَلَتْ فِیہِم { لاَ یَحْسَبَنَّ الَّذِینَ یَفْرَحُونَ بِمَا أَتَوْا وَیُحِبُّونَ أَنْ یُحْمَدُوا بِمَا لَمْ یَفْعَلُوا فَلاَ تَحْسَبَنَّہُمْ بِمَفَازَۃٍ مِنَ الْعَذَابِ } [آل عمران ١٨٨] رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ سَعِیدِ بْنِ أَبِی مَرْیَمَ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنِ الْحُلْوَانِیِّ وَابْنِ عَسْکَرٍ عَنِ ابْنِ أَبِی مَرْیَمَ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ : فَأَظْہَرَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ لِرَسُولِہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - أَسْرَارَہُمْ وَخَبَرَ السَّمَّاعِینَ لَہُمْ وَابْتَغَائَ ہُمْ أَنْ یَفْتِنُوا مَنْ مَعَہُ بِالْکَذِبِ وَالإِرْجَافِ وَالتَّخْذِیلِ لَہُمْ فَأَخْبَرَ أَنَّہُ کَرِہَ انْبِعَاثَہُمْ إِذْ کَانُوا عَلَی ہَذِہِ النِّیَّۃِ فَکَانَ فِیہَا مَا دَلَّ عَلَی أَنَّ اللَّہَ جَلَّ ثَنَاؤُہُ أَمَرَ أَنْ یُمْنَعَ مَنْ عُرِفَ بِمَا عُرِفُوا بِہِ مِنْ أَنْ یَغْزُوا مَعَ الْمُسْلِمِینَ لأَنَّہُ ضَرَرٌ عَلَیْہِمْ ثُمَّ زَادَ فِی تَأْکِیدِ بَیَانِ ذَلِکَ بِقَوْلِہِ { فَرِحَ الْمُخَلَّفُونَ بِمَقْعَدِہِمْ خِلاَفَ رَسُولِ اللَّہِ } [التوبۃ ٨١] قَرَأَ إِلَی قَوْلِہِ { فَاقْعُدُوا مَعَ الْخَالِفِینَ } [التوبۃ ٨٣]
قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ : فَأَظْہَرَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ لِرَسُولِہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - أَسْرَارَہُمْ وَخَبَرَ السَّمَّاعِینَ لَہُمْ وَابْتَغَائَ ہُمْ أَنْ یَفْتِنُوا مَنْ مَعَہُ بِالْکَذِبِ وَالإِرْجَافِ وَالتَّخْذِیلِ لَہُمْ فَأَخْبَرَ أَنَّہُ کَرِہَ انْبِعَاثَہُمْ إِذْ کَانُوا عَلَی ہَذِہِ النِّیَّۃِ فَکَانَ فِیہَا مَا دَلَّ عَلَی أَنَّ اللَّہَ جَلَّ ثَنَاؤُہُ أَمَرَ أَنْ یُمْنَعَ مَنْ عُرِفَ بِمَا عُرِفُوا بِہِ مِنْ أَنْ یَغْزُوا مَعَ الْمُسْلِمِینَ لأَنَّہُ ضَرَرٌ عَلَیْہِمْ ثُمَّ زَادَ فِی تَأْکِیدِ بَیَانِ ذَلِکَ بِقَوْلِہِ { فَرِحَ الْمُخَلَّفُونَ بِمَقْعَدِہِمْ خِلاَفَ رَسُولِ اللَّہِ } [التوبۃ ٨١] قَرَأَ إِلَی قَوْلِہِ { فَاقْعُدُوا مَعَ الْخَالِفِینَ } [التوبۃ ٨٣]