আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)
سیر کا بیان
হাদীস নং: ১৭৮৭৫
سیر کا بیان
حکمران جن لوگوں سے کسی بھی حال میں نہیں لڑ سکتا
(١٧٨٦٩) حضرت ابو طفیل فرماتے ہیں کہ عقبہ کے لوگوں میں سے ایک آدمی کی حضرت حذیفہ کے ساتھ چپکلش تھی جیسا کہ لوگوں میں ہوتی ہے۔ حضرت حذیفہ (رض) نے کہا کہ اس کو گواہ بنا کر بتاؤ، عقبہ کے کتنے لوگ تھے تو قوم نے کہا : جب اس نے سوال کیا تو بتادو تو اس نے کہا : ہم چودہ تھے۔ اگر میں بھی ہوں تو پندرہ ہوں گے میں گواہی دیتا ہوں کہ ان میں بارہ اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ لڑ رہے تھے اور دنیا اور آخرت دونوں میں اور تین کا عذر بیان کیا۔ انھوں نے کہا : ہم نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اعلان نہیں سنا تھا اور نہ قوم کا ارادہ معلوم تھا اور یہ غزوہ گرمی میں تھا وہ چلے اور کہتے ہیں کہ پانی قلیل تھا۔ میں سب سے پہلے پہنچا تو دیکھا کہ ایک گروہ اس سے بھی آگے ہے۔ اس نے اس دن ان پر لعنت کی۔
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : حاضرین میں سے کچھ لوگ پیچھے رہ گئے۔ پھر اللہ نے غزوہ تبوک کے دوران یا واپسی پر ان کی خبریں نازل کردیں اور یہ آیات تلاوت کیں : { وَ لَوْ اَرَادُوا الْخُرُوْجَ لَاَعَدُّوْا لَہٗ عُدَّۃًوَّلٰکِنْ کَرِہَ اللّٰہُ انْبِعَاثَھُمْ } [التوبۃ ٤٦] یہاں تک پڑھا { وَ یَتَوَلَّوْا وَّ ھُمْ فَرِحُوْنَ ۔ } [التوبۃ ٥٠] ” اگر وہ نکلنے کا ارادہ کرتے تو اس کے لیے کچھ سامان ضرور تیار کرتے لیکن انھوں نے اس کا اٹھانا پسند کیا۔۔۔ اور اس حال میں پھرتے ہیں کہ وہ خوش ہیں۔ “
شیخ فرماتے ہیں کہ مغازی میں وضاحت موجود ہے۔
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : حاضرین میں سے کچھ لوگ پیچھے رہ گئے۔ پھر اللہ نے غزوہ تبوک کے دوران یا واپسی پر ان کی خبریں نازل کردیں اور یہ آیات تلاوت کیں : { وَ لَوْ اَرَادُوا الْخُرُوْجَ لَاَعَدُّوْا لَہٗ عُدَّۃًوَّلٰکِنْ کَرِہَ اللّٰہُ انْبِعَاثَھُمْ } [التوبۃ ٤٦] یہاں تک پڑھا { وَ یَتَوَلَّوْا وَّ ھُمْ فَرِحُوْنَ ۔ } [التوبۃ ٥٠] ” اگر وہ نکلنے کا ارادہ کرتے تو اس کے لیے کچھ سامان ضرور تیار کرتے لیکن انھوں نے اس کا اٹھانا پسند کیا۔۔۔ اور اس حال میں پھرتے ہیں کہ وہ خوش ہیں۔ “
شیخ فرماتے ہیں کہ مغازی میں وضاحت موجود ہے۔
(١٧٨٦٩) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ حَدَّثَنِی أَبِی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الزُّبَیْرِ وَأَبُو نُعَیْمٍ قَالاَ حَدَّثَنَا الْوَلِیدُ بْنُ جُمَیْعٍ حَدَّثَنَا أَبُو الطُّفَیْلِ قَالَ : کَانَ بَیْنَ رَجُلٍ مِنْ أَہْلِ الْعَقَبَۃِ وَبَیْنَ حُذَیْفَۃَ بَعْضِ مَا یَکُونُ بَیْنَ النَّاسِ فَقَالَ أَنْشُدُکَ بِاللَّہِ کَمْ کَانَ أَصْحَابُ الْعَقَبَۃِ ؟ قَالَ فَقَالَ لَہُ الْقَوْمُ أَخْبِرْہُ أَنْ سَأَلَکَ ۔ قَالَ : کُنَّا نُخْبَرُ أَنَّہُمْ أَرْبَعَۃَ عَشَرَ فَإِنْ کُنْتَ فِیہِمْ فَقَدْ کَانَ الْقَوْمُ خَمْسَۃَ عَشَرَ وَأَشْہَدُ بِاللَّہِ أَنَّ اثْنَیْ عَشَرَ مِنْہُمْ حَرْبٌ لِلَّہِ وَرَسُولِہِ فِی الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا وَیَوْمَ یَقُومُ الأَشْہَادُ وَعَذَرَ ثَلاَثَۃً قَالُوا مَا سَمِعْنَا مُنَادِیَ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَلاَ عَلِمْنَا مَا أَرَادَ الْقَوْمُ وَقَدْ کَانَ فِی حَرَّۃٍ فَمَشَی فَقَالَ إِنَّ الْمَائَ قَلِیلٌ فَلاَ یَسْبِقْنِی إِلَیْہِ أَحَدٌ فَوَجَدَ قَوْمًا قَدْ سَبَقُوہُ فَلَعَنَہُمْ یَوْمَئِذٍ ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ زُہَیْرِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ أَبِی أَحْمَدَ : مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ الزُّبَیْرِیِّ ۔ [صحیح۔ مسلم ]
قَالَ الشَّافِعِیُّ : وَتَخَلَّفَ آخَرُونَ مِنْہُمْ فِیمَنْ بِحَضْرَتِہِ ثُمَّ أَنْزَلَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَیْہِ غَزَاۃَ تَبُوکَ أَوْ مُنْصَرَفَہُ مِنْہَا مِنْ أَخْبَارِہِمْ فَقَالَ { وَلَوْ أَرَادُوا الْخُرُوجَ لأَعَدُّوا لَہُ عُدَّۃً وَلَکِنْ کَرِہَ اللَّہُ انْبِعَاثَہُمْ } [التوبۃ ٤٦] قَرَأَ إِلَی قَوْلِہِ { وَیَتَوَلَّوْا وَہُمْ فَرِحُونَ } [التوبۃ ٥٠] قَالَ الشَّیْخُ ہُوَ بَیِّنٌ فِی مَغَازِی مُوسَی بْنِ عُقْبَۃَ وَابْنِ إِسْحَاقَ ۔
قَالَ الشَّافِعِیُّ : وَتَخَلَّفَ آخَرُونَ مِنْہُمْ فِیمَنْ بِحَضْرَتِہِ ثُمَّ أَنْزَلَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَیْہِ غَزَاۃَ تَبُوکَ أَوْ مُنْصَرَفَہُ مِنْہَا مِنْ أَخْبَارِہِمْ فَقَالَ { وَلَوْ أَرَادُوا الْخُرُوجَ لأَعَدُّوا لَہُ عُدَّۃً وَلَکِنْ کَرِہَ اللَّہُ انْبِعَاثَہُمْ } [التوبۃ ٤٦] قَرَأَ إِلَی قَوْلِہِ { وَیَتَوَلَّوْا وَہُمْ فَرِحُونَ } [التوبۃ ٥٠] قَالَ الشَّیْخُ ہُوَ بَیِّنٌ فِی مَغَازِی مُوسَی بْنِ عُقْبَۃَ وَابْنِ إِسْحَاقَ ۔