আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)
سیر کا بیان
হাদীস নং: ১৭৮২৭
سیر کا بیان
جس کو جہاد چھوڑنے میں بڑھاپے، بیماری، اپاہج پن یا دائمی مرض کا عذر ہو
اللہ تعالیٰ کا جہاد کے بارے میں فرمان ہے : { لَیْسَ عَلَی الضُّعَفَآئِ وَ لَا عَلَی الْمَرْضٰی وَ لَا عَلَی الَّذِیْنَ لَا یَجِدُوْنَ مَا یُنْفِقُوْنَ حَرَجٌ اِذَا نَصَحُوْا لِلّٰہِ و
اللہ تعالیٰ کا جہاد کے بارے میں فرمان ہے : { لَیْسَ عَلَی الضُّعَفَآئِ وَ لَا عَلَی الْمَرْضٰی وَ لَا عَلَی الَّذِیْنَ لَا یَجِدُوْنَ مَا یُنْفِقُوْنَ حَرَجٌ اِذَا نَصَحُوْا لِلّٰہِ و
(١٧٨٢١) بنی سلمہ کے چند شیوخ فرماتے ہیں کہ عمرو بن جموح بہت زیادہ لنگڑے تھے۔ ان کے چار جوان بیٹے تھے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جس غزوے میں بھی جاتے وہ آپ کے ساتھ ہوتے اور جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے احد کی طرف جانے کا ارادہ کیا تو عمرو بن جموح نے بھی جانا چاہا، لیکن ان کے بیٹوں نے ان کو کہا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو رخصت دی ہے اور آپ کا یہاں بیٹھنا زیادہ بہتر ہے اور آپ کی جگہ ہم آپ کی کفایت کر جائیں گے۔ اللہ نے آپ پر جہاد فرض نہیں کیا تو عمرو بن جموح رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے اور کہا : اے اللہ کے رسول ! میرے بیٹے مجھے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ جانے سے روکتے ہیں اور میں شہادت چاہتا ہوں اور میرے لنگڑے پن نے مجھے جنت میں جانے سے پیچھے چھوڑ دیا ہے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ نے آپ سے جہاد کو معاف کردیا ہے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے بیٹوں سے کہا کہ تم اسے کیوں نہیں جانے دیتے ! ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے شہادت نصیب فرمائے۔ وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نکلا اور احد کے دن شہید ہوگیا۔
(١٧٨٢١) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِی وَالِدِی إِسْحَاقُ بْنُ یَسَارٍ عَنْ أَشْیَاخٍ مِنْ بَنِی سَلَمَۃَ قَالُوا : کَانَ عَمْرُو بْنُ الْجَمُوحِ أَعْرَجَ شَدِیدَ الْعَرَجِ وَکَانَ لَہُ أَرْبَعَۃُ بَنُونَ شَبَابٌ یَغْزُونَ مَعَ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - إِذَا غَزَا فَلَمَّا أَرَادَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَتَوَجَّہُ إِلَی أُحُدٍ قَالَ لَہُ بَنُوہُ إِنَّ اللَّہَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ جَعَلَ لَکَ رُخْصَۃً فَلَو قَعَدْتَ فَنَحْنُ نَکْفِیکَ فَقَدْ وَضَعَ اللَّہُ عَنْکَ الْجِہَادَ فَأَتَی عَمْرُو بْنُ الْجَمُوحِ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّ بَنِیَّ ہَؤُلاَئِ یَمْنَعُونِی أَنْ أَخْرُجَ مَعَکَ وَاللَّہِ إِنِّی لأَرْجُو أَنْ أُسَتَشْہَدَ فَأَطَأَ بِعُرْجَتِی ہَذِہِ فِی الْجَنَّۃِ ۔ فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : أَمَّا أَنْتَ فَقَدْ وَضَعَ اللَّہُ عَنْکَ الْجِہَادَ ۔
وَقَالَ لِبَنِیہِ : وَمَا عَلَیْکُمْ أَنْ تَدْعُوہُ لَعَلَّ اللَّہَ عَزَّ وَجَلَّ یَرْزُقُہُ الشَّہَادَۃَ ؟ ۔ فَخَرَجَ مَعَ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَقُتِلَ یَوْمَ أُحُدٍ شَہِیدًا۔ [ضعیف ]
وَقَالَ لِبَنِیہِ : وَمَا عَلَیْکُمْ أَنْ تَدْعُوہُ لَعَلَّ اللَّہَ عَزَّ وَجَلَّ یَرْزُقُہُ الشَّہَادَۃَ ؟ ۔ فَخَرَجَ مَعَ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَقُتِلَ یَوْمَ أُحُدٍ شَہِیدًا۔ [ضعیف ]