আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)
سیر کا بیان
হাদীস নং: ১৭৮২০
سیر کا بیان
جس کو جہاد چھوڑنے میں بڑھاپے، بیماری، اپاہج پن یا دائمی مرض کا عذر ہو
اللہ تعالیٰ کا جہاد کے بارے میں فرمان ہے : { لَیْسَ عَلَی الضُّعَفَآئِ وَ لَا عَلَی الْمَرْضٰی وَ لَا عَلَی الَّذِیْنَ لَا یَجِدُوْنَ مَا یُنْفِقُوْنَ حَرَجٌ اِذَا نَصَحُوْا لِلّٰہِ و
اللہ تعالیٰ کا جہاد کے بارے میں فرمان ہے : { لَیْسَ عَلَی الضُّعَفَآئِ وَ لَا عَلَی الْمَرْضٰی وَ لَا عَلَی الَّذِیْنَ لَا یَجِدُوْنَ مَا یُنْفِقُوْنَ حَرَجٌ اِذَا نَصَحُوْا لِلّٰہِ و
(١٧٨١٤) حضرت برائ (رض) فرماتے ہیں : جب یہ آیت نازل ہوئی : { لَا یَسْتَوِی الْقٰعِدُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ غَیْرُ اُولِی الضَّرَرِ وَالْمُجٰھِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ } [النساء ٩٥] ” اپنی جانوں اور مالوں سے جہاد کرنے والے مومن اور بغیر عذر کے بیٹھے رہنے والے مومن برابر نہیں ہوسکتے “ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت زید کو حکم دیا تو انھوں نے اس کو لکھا۔ پھر ابن ام مکتوم آئے اور انھوں نے اپنی بیماری وغیرہ کا عذر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پیش کیا تو اللہ تعالیٰ نے { غَیْرُ اُولِی الضَّرَرِ } والا حصہ نازل کیا۔ صرف سند ذکر کی ہے۔
(١٧٨١٤) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو النَّضْرِ : مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یُوسُفَ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ أَبُو عُمَرَ الضَّرِیرُ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنِ الْبَرَائَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ { لاَ یَسْتَوِی الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِینَ وَالْمُجَاہِدُونَ فِی سَبِیلِ اللَّہِ } [النساء ٩٥] الآیَۃَ أَمَرَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - زَیْدًا فَکَتَبَہَا فَجَائَ ابْنُ أُمِّ مَکْتُومٍ فَشَکَا ضَرَارَتَہُ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَأَنْزَلَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ { غَیْرُ أُولِی الضَّرَرِ } [النساء ٩٥] ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ حَفْصِ بْنِ عُمَرَ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ شُعْبَۃَ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ : ١٧٨١٥]