আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)

سیر کا بیان

হাদীস নং: ১৭৮০২
سیر کا بیان
جہاد کی فرضیت کی دلیل کا بیان اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : { کُتِبَ عَلَیْکُمُ الْقِتَالُ وَ ھُوَ کُرْہٌ لَّکُمْ وَ عَسٰٓی اَنْ تَکْرَھُوْا شَیْئًا وَّ ھُوَ خَیْرٌ لَّکُمْ وَ عَسٰٓی اَنْ تُحِبُّوْا شَیْئًا وَّ ھُوَ شَرٌّ لَّکُمْ } [البقرۃ ٢١٦] ” اے ایمان والو !
(١٧٧٩٦) حضرت ابن خصاصیہ (رض) فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس اسلام پر بیعت کرنے کے لیے آیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھ پر مندرجہ ذیل باتوں کی شرط لگائی : اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے علاوہ کوئی حقیقی معبود نہیں اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے بندے اور رسول ہیں اور پانچ وقت کی نماز ادا کرنا، رمضان کے روزے رکھنا، زکوۃ ادا کرنا، بیت اللہ کا حج کرنا اور اللہ کے راستے میں جہاد کرنا۔ “ ابن خصاصیہ کہتے ہیں : میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! ان میں سے دو چیزوں کے کرنے کی میں طاقت نہیں رکھتا، یعنی (زکوۃ اور جہاد کی) ۔ رہی زکوۃ تو میرے پاس صرف دس اونٹ ہیں جو میرے گھر والوں کا سرکل چلاتے ہیں، یعنی ہم ان کا دودھ استعمال کرتے ہیں اور سواری کرتے ہیں اور رہا جہاد کا معاملہ تو اس کے بارے میں لوگ دعویٰ کرتے ہیں کہ جو میدان جنگ سے بھاگے گا۔ وہ اللہ کا غضب لے کر لوٹے گا تو میں ڈرتا ہوں کہ میں میدان قتال میں حاضر ہوں تو اس وقت میں موت کو ناپسند کروں اور اپنی جان کو پسند کرلوں اور اس پر حریص بن جاؤں۔ کہتے ہیں کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے ہاتھ کو بند کرلیا اور پھر اسے ہلا کر کہا کہ نہ صدقہ اور نہ جہاد تو تم جنت میں کیسے جاسکتے ہو۔ ابن خصاصیہ کہتے ہیں : پھر میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! میں آپ کی بیعت کرتا ہوں، پھر آپ نے مجھ سے ان تمام چیزوں پر بیعت لی۔
(١٧٧٩٦) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو الأَزْہَرِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّقِّیُّ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ إِمْلاَئً بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا ہِلاَلُ بْنُ الْعَلاَئِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّقِّیُّ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ عَمْرٍو الرَّقِّیُّ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَبِی أُنَیْسَۃَ عَنْ جَبَلَۃَ بْنِ سُحَیْمٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْمُثَنَّی الْعَبْدِیُّ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ الْخَصَاصِیَۃِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَقُولُ : أَتَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - لأُبَایِعَہُ عَلَی الإِسْلاَمِ فَاشْتَرَطَ عَلَیَّ : تَشْہَدُ أَنْ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُولُہُ وَتُصَلِّی الْخَمْسَ وَتَصُومُ رَمَضَانَ وَتُؤَدِّی الزَّکَاۃَ وَتَحُجُّ الْبَیْتَ وَتُجَاہِدُ فِی سَبِیلِ اللَّہِ ۔

قَالَ قُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَمَّا اثْنَتَانِ فَلاَ أُطِیقُہُمَا أَمَّا الزَّکَاۃُ فَمَا لِی إِلاَّ عَشْرُ ذَوْدٍ ہُنَّ رِسْلُ أَہْلِی وَحَمُولَتُہُمْ وَأَمَّا الْجِہَادُ فَیَزْعُمُونَ أَنَّہُ مَنْ وَلَّی فَقَدْ بَائَ بِغَضَبٍ مِنْ اللَّہِ فَأَخَافُ إِذَا حَضَرَنِی قِتَالٌ کَرِہْتُ الْمَوْتَ وَجَشِعَتْ نَفْسِی قَالَ فَقَبَضَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَدَہُ ثُمَّ حَرَّکَہَا ثُمَّ قَالَ : لاَ صَدَقَۃَ وَلاَ جِہَادَ فَبِمَ تَدْخُلُ الْجَنَّۃَ ؟ ۔ قَالَ ثُمَّ قُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أُبَایِعُکَ فَبَایَعَنِی عَلَیْہِنَّ کُلِّہِنَّ ۔ لَفْظُ حَدِیثِ أَبِی عَبْدِ اللَّہِ ۔ [ضعیف ]
tahqiqতাহকীক:তাহকীক চলমান
সুনানে বাইহাকী (উর্দু) - হাদীস নং ১৭৮০২ | মুসলিম বাংলা