আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)
سیر کا بیان
হাদীস নং: ১৭৭৮৫
سیر کا بیان
مشرکین کی بستی میں اس آدمی کو ٹھہرنے کی اجازت جس پر فتنہ میں مبتلا ہونے کا اندیشہ نہ ہو
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک قوم کو اسلام قبول کرنے کے بعد مکہ میں ٹھہرنے کی اجازت دی۔ ان میں عباس بن عبدالمطلب وغیرہ تھے جبکہ ان پر فتنہ کا آپ کو
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک قوم کو اسلام قبول کرنے کے بعد مکہ میں ٹھہرنے کی اجازت دی۔ ان میں عباس بن عبدالمطلب وغیرہ تھے جبکہ ان پر فتنہ کا آپ کو
(١٧٧٧٩) حضرت عبداللہ بن سعدی مالک بن حسل قبیلہ سے تعلق رکھتے ہیں، فرماتے ہیں کہ میں اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا۔ جب وہ اپنی سواریوں سے اترے تو انھوں نے کہا کہ آپ سواریوں کی حفاظت کریں۔ جب ہم اپنی حاجت پوری کریں گے تو تم رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس چلے جانا اور اپنی ضرورت پوری کرلینا اور میں سب سے چھوٹا تھا جب وہ اپنی حاجت پوری کر کے آگئے تو انھوں نے مجھے کہا کہ اب تم چلے جاؤ۔ کہتے ہیں کہ جب میں رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس گیا تو آپ نے فرمایا : تمہاری کیا حاجت ہے ؟ میں نے کہا : میری حاجت اور سوال یہ ہے کہ آپ مجھے ہجرت کے متعلق بتائیے کیا ہجرت منقطع ہوگئی ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تک دشمن سے قتال کیا جائے گا ہجرت منقطع نہیں ہوگی۔
(١٧٧٧٩) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُوبَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا الْحَکَمُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ حَمْزَۃَ قَاضَی دِمَشْقَ عَنْ عَطَائٍ الْخُرَاسَانِیِّ عَنِ ابْنِ مُحَیْرِیزٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ السَّعْدِیِّ مِنْ بَنِی مَالِکِ بْنِ حِسْلٍ : أَنَّہُ قَدِمَ عَلَی رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فِی أُنَاسٍ مِنْ أَصْحَابِہِ فَلَمَّا نَزَلُوا قَالُوا احْفَظْ لَنَا رِکَابَنَا حَتَّی نَقْضِیَ حَاجَتَنَا ثُمَّ تَدْخُلُ وَکَانَ أَصْغَرَ الْقَوْمِ فَقُضِی لَہُمْ حَاجَتَہُمْ ثُمَّ قَالُوا لَہُ ادْخُلْ فَلَمَّا دَخَلَ عَلَی رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالَ : حَاجَتُکَ ؟ قَالَ : حَاجَتِی أَنْ تُخْبِرَنِی أَنْقَطَعَتِ الْہِجْرَۃُ ؟ قَالَ : حَاجَتُکَ مِنْ خَیْرِ حَوَائِجِہِمْ لاَ تَنْقَطِعُ الْہِجْرَۃُ مَا قُوتِلَ الْعَدُوُّ ۔ [صحیح لغیرہ ]