আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)
سیر کا بیان
হাদীস নং: ১৭৭৮৩
سیر کا بیان
مشرکین کی بستی میں اس آدمی کو ٹھہرنے کی اجازت جس پر فتنہ میں مبتلا ہونے کا اندیشہ نہ ہو
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک قوم کو اسلام قبول کرنے کے بعد مکہ میں ٹھہرنے کی اجازت دی۔ ان میں عباس بن عبدالمطلب وغیرہ تھے جبکہ ان پر فتنہ کا آپ کو
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک قوم کو اسلام قبول کرنے کے بعد مکہ میں ٹھہرنے کی اجازت دی۔ ان میں عباس بن عبدالمطلب وغیرہ تھے جبکہ ان پر فتنہ کا آپ کو
(١٧٧٧٧) حضرت عطاء کہتے ہیں کہ میں نے عبید بن عمیر کے ساتھ حضرت عائشہ (رض) سے ملاقات کی تو انھوں نے ان سے ہجرت کے متعلق سوال کیا تو انھوں نے کہا : آج کوئی ہجرت نہیں، ہجرت تو اللہ اور اس کے رسول کی طرف کی جاتی تھی۔ جب مؤمنین کو ان کے دین کے حوالے سے فتنے میں ڈالا جاتا تھا تو وہ اپنے دین کو بچانے کے لیے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آتے تھے۔ اب تو اللہ تعالیٰ نے اسلام کو اتنا پھیلا دیا ہے کہ آدمی جہاں چاہے اپنے رب کی عبادت کرسکتا ہے۔ اب تو جہاد اور نیت باقی ہے۔
یہ تمام احادیث اہل مکہ سے ہجرت کے انقطاع کے وجوب کی طرف لوٹتی ہیں یا ان کے علاوہ ایسے شہر کی طرف لوٹتی ہیں جو دار الاسلام یا دار الامن بن گئے ہیں اور اگر کوئی آدمی دار الحرب میں ہے اور اس کو وہاں پر اسلام پر چلنا مشکل ہے تو اس کے لیے ہجرت باقی ہے کہ وہ وہاں سے ہجرت کر کے دار الاسلام میں آجائے اور اپنے دین کو بچا لے۔
یہ تمام احادیث اہل مکہ سے ہجرت کے انقطاع کے وجوب کی طرف لوٹتی ہیں یا ان کے علاوہ ایسے شہر کی طرف لوٹتی ہیں جو دار الاسلام یا دار الامن بن گئے ہیں اور اگر کوئی آدمی دار الحرب میں ہے اور اس کو وہاں پر اسلام پر چلنا مشکل ہے تو اس کے لیے ہجرت باقی ہے کہ وہ وہاں سے ہجرت کر کے دار الاسلام میں آجائے اور اپنے دین کو بچا لے۔
(١٧٧٧٧) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو الْحَسَنِ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبْدُوسٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا مَحْبُوبُ بْنُ مُوسَی أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاقَ عَنِ الأَوْزَاعِیِّ عَنْ عَطَائٍ قَالَ : زُرْتُ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا مَعَ عُبَیْدِ بْنِ عُمَیْرٍ فَسَأَلَہَا عَنِ الْہِجْرَۃِ قَالَتْ : لاَ ہِجْرَۃَ الْیَوْمَ إِنَّمَا کَانَتِ الْہِجْرَۃُ إِلَی اللَّہِ وَرَسُولِہِ کَانَ الْمُؤْمِنُونَ یَفِرُّونَ بِدِینِہِمْ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - مِنْ أَنْ یُفْتَنُوا فَقَدْ أَفْشَی اللَّہُ الإِسْلاَمَ فَحَیْثُمَا شَائَ رَجُلٌ عَبَدَ رَبَّہُ وَلَکِنْ جِہَادٌ وَنِیَّۃٌ۔ أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ الأَوْزَاعِیِّ وَابْنِ جُرَیْجٍ وَرُوِّینَا عَنِ ابْنِ عُمَرَ مَعْنَی ہَذَا۔
وَکُلُّ ذَلِکَ یَرْجِعُ إِلَی انْقِطَاعِ الْہِجْرَۃِ وُجُوبًا عَنْ أَہْلِ مَکَّۃَ وَغَیْرِہَا مِنَ الْبِلاَدِ بَعْدَ مَا صَارَتْ دَارَ أَمَنٍ وَإِسْلاَمٍ فَأَمَّا دَارُ حَرْبٍ أَسْلَمَ فِیہَا مَنْ یَخَافُ الْفِتْنَۃَ عَلَی دِینِہِ وَلَہُ مَا یُبَلِّغُہُ إِلَی دَارِ الإِسْلاَمِ فَعَلَیْہِ أَنْ یُہَاجِرَ ۔ [صحیح۔ بخاری ٣٠٩٠]
وَکُلُّ ذَلِکَ یَرْجِعُ إِلَی انْقِطَاعِ الْہِجْرَۃِ وُجُوبًا عَنْ أَہْلِ مَکَّۃَ وَغَیْرِہَا مِنَ الْبِلاَدِ بَعْدَ مَا صَارَتْ دَارَ أَمَنٍ وَإِسْلاَمٍ فَأَمَّا دَارُ حَرْبٍ أَسْلَمَ فِیہَا مَنْ یَخَافُ الْفِتْنَۃَ عَلَی دِینِہِ وَلَہُ مَا یُبَلِّغُہُ إِلَی دَارِ الإِسْلاَمِ فَعَلَیْہِ أَنْ یُہَاجِرَ ۔ [صحیح۔ بخاری ٣٠٩٠]